سپریم کورٹ نے پریزائیڈنگ افسر کے طرز عمل پر الہ آباد ہائی کورٹ سے رپورٹ طلب کر لی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 22-09-2026
سپریم کورٹ نے پریزائیڈنگ افسر کے طرز عمل پر الہ آباد ہائی کورٹ سے رپورٹ طلب کر لی
سپریم کورٹ نے پریزائیڈنگ افسر کے طرز عمل پر الہ آباد ہائی کورٹ سے رپورٹ طلب کر لی

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد کیس کی سماعت کرنے والے پریزائیڈنگ افسر کے طرز عمل سے متعلق الزامات پر الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ الزام ہے کہ مذکورہ افسر نے این ڈی پی ایس اور ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج کئی مقدمات اپنے پاس منتقل کیے اور ملزمان کو ضمانت یا بری کر دیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا کہ وہ الزامات اور درخواست میں کیے گئے دعووں کا جائزہ لینے اور ضروری اصلاحی کارروائی کرنے کے بعد اپنی رپورٹ سیل بند لفافے میں پیش کریں۔

لکھیم پور کھیری تشدد کیس کے ایک عینی شاہد کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکے، جس کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔ بھوشن نے عدالت میں الزام لگایا کہ پریزائیڈنگ افسر کا طرز عمل انتہائی تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق افسر نے این ڈی پی ایس اور ایس سی، ایس ٹی ایکٹ سے متعلق مقدمات بھی اپنے پاس منتقل کیے اور ملزمان کو ضمانت دی یا انہیں بری کر دیا، حالانکہ قانون کے تحت انہیں اس طرح مقدمات اپنے پاس منتقل کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

وکیل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مقدمے کے دوران سرکاری وکیل کو تبدیل کر دیا گیا اور نئے سرکاری وکیل کے پاس صرف چار ماہ کا تجربہ ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت سے کہا کہ وہ اس معاملے میں سب سے سینئر اور تجربہ کار سرکاری وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر غور کرے، جسے سیشن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کا خاطر خواہ تجربہ ہو۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے اس سلسلے میں دو ہفتوں کے اندر معلومات فراہم کرنے کو کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کی ہے۔

اس سے قبل 6 اگست کو سپریم کورٹ نے 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد کیس کے مرکزی ملزم آشیش مشرا کی ضمانت کی شرائط میں مزید نرمی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ 3 اکتوبر 2021 کو اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع کے ٹکونیا علاقے میں کسانوں کے احتجاج کے دوران تشدد ہوا تھا۔ کسان اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے علاقے کے دورے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ تشدد کے دوران چار کسان ایک اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے بعد مشتعل کسانوں کی جانب سے ایک ڈرائیور اور بی جے پی کے دو کارکنوں کو مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کیے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔ اس تشدد میں ایک صحافی کی بھی موت ہوئی تھی۔ مرکزی مقدمے میں دسمبر 2023 میں ٹرائل کورٹ نے آشیش مشرا سمیت 13 افراد کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔ ان میں قتل، مجرمانہ سازش اور دیگر جرائم سے متعلق دفعات شامل ہیں، جس کے بعد مرکزی کیس میں باقاعدہ ٹرائل شروع ہونے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔