نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو مرکزی حکومت سے 135 سال پرانی مرکزی سیکریٹریٹ لائبریری کے لیے مختص کی جانے والی جگہ اور عمارت کے اصل نقشے کی مکمل تفصیل طلب کی۔ عدالت کا یہ حکم ان خبروں کے درمیان آیا ہے کہ نئے سینٹرل وسٹا منصوبے میں لائبریری کے لیے کوئی جگہ مختص نہیں کی گئی ہے۔ مرکزی سیکریٹریٹ لائبریری میں 8.5 لاکھ سے زیادہ کتابیں ہیں اور یہ شاستری بھون میں واقع ہے، جسے سینٹرل وسٹا منصوبے کے تحت منہدم کیا جانا ہے۔ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی بنچ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت نے کہا کہ حلف نامے میں لائبریری کے لیے مختص کی جانے والی جگہ کی مکمل تفصیل اور عمارت کا اصل نقشہ پیش کیا جائے۔ سپریم کورٹ ’’135 سال پرانی لائبریری، 8.5 لاکھ کتابیں اور سینٹرل وسٹا منصوبے میں کوئی جگہ نہیں‘‘ کے عنوان سے ازخود نوٹس لے کر اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران بنچ نے مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی سے پوچھا، ’’اب آپ اس لائبریری کے لیے کتنی جگہ دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں؟‘‘ بھاٹی نے بتایا کہ فی الحال لائبریری کے پاس 4,144 مربع میٹر جگہ ہے اور اب تقریباً 5,200 مربع میٹر جگہ مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
سماعت کے آغاز میں بنچ نے کہا کہ یہ مسئلہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج نے اٹھایا تھا۔ ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ لائبریری 1891 سے قائم ہے۔ بنچ نے کہا، ’’یہ کہنا اچھی بات ہے کہ ہمیں کاغذ کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے پاس پہلے سے موجود اہم دستاویزات کا خیال ہی نہ رکھا جائے۔ آپ کرتویہ بھون میں صرف دو کمرے دے رہے ہیں، بس اتنا ہی؟‘‘ ایشوریہ بھاٹی نے کہا کہ معاملہ عدالت کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے اس سلسلے میں ضروری ہدایات حاصل کی ہیں اور سینٹرل وسٹا کے ڈائریکٹر بھی عدالت میں موجود ہیں۔ اس پر بنچ نے کہا، ’’صرف ہدایات سے کام نہیں چلے گا۔ بہتر ہوگا کہ آپ مناسب حلف نامہ داخل کریں۔‘‘
سماعت کے دوران عدالت نے پوچھا، ’’موجودہ لائبریری کے پاس تقریباً 5,000 مربع میٹر جگہ ہے۔ اب آپ کتنی جگہ دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں؟‘‘ بنچ نے واضح کیا کہ اس میں آر کے پورم میں رکھی ہوئی تقریباً دو لاکھ کتابیں شامل نہیں ہیں۔ بھاٹی نے بتایا کہ فی الحال لائبریری کے پاس 4,144 مربع میٹر جگہ ہے اور اب اس کے لیے دو منزلوں میں مزید جگہ فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بنچ نے حکومت کو مناسب حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا، ’’ہمیں تفصیلی منصوبہ بتائیے۔‘
‘ عدالت نے کہا کہ ایشوریہ بھاٹی نے حکومت ہند کی جانب سے نوٹس قبول کر لیا ہے اور لائبریری کے لیے مختص کی جانے والی جگہ کی مکمل تفصیل کے ساتھ عمارت کا اصل نقشہ حلف نامے میں پیش کرنے کی پیشکش کی ہے۔ بنچ نے کہا کہ حکومت کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ لائبریری کے لیے مختص کی جانے والی جگہ صرف شاستری بھون میں موجود کتابوں کے لیے کافی ہوگی یا آر کے پورم میں پیٹیوں میں رکھی ان تقریباً دو لاکھ کتابوں کے لیے بھی کافی ہوگی، جنہیں 2011 سے کھولا نہیں گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 16 نومبر کی تاریخ مقرر کی اور سینئر وکیل ہری پریا پدمنا بھن سے اس معاملے میں عدالت کی معاونت کرنے کو کہا۔
انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے خبر دی تھی کہ 1969 سے شاستری بھون کی چار منزلوں میں چل رہی اس لائبریری کا مستقبل غیر یقینی ہے، کیونکہ وزارتِ ہاؤسنگ اور شہری امور نے کرتویہ بھون-2 عمارت میں اس کے لیے صرف دو کمرے مختص کیے تھے۔ مرکزی وزارتِ ہاؤسنگ نے بعد میں واضح کیا تھا کہ سینٹرل وسٹا کی ازسرنو ترقی کے منصوبے میں لائبریری کے لیے جگہ فراہم کی گئی ہے۔ وزارت نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا تھا، ’’کچھ خبروں کے برعکس یہ واضح کیا جاتا ہے کہ مرکزی سیکریٹریٹ لائبریری کے لیے کرتویہ پتھ کی ازسرنو ترقی کے منصوبے میں جگہ فراہم کی گئی ہے۔ لائبریری کی تعمیر کے لیے ضروری کارروائی جاری ہے۔‘‘