رَیگنگ کے خلاف مرکزی قانون کی عرضی پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
رَیگنگ کے خلاف مرکزی قانون کی عرضی پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار
رَیگنگ کے خلاف مرکزی قانون کی عرضی پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک بھر کے اسکولوں اور ہائر سیکنڈری تعلیمی اداروں میں طلبہ کو ہراساں کرنے اور رَیگنگ سے نمٹنے کے لیے مرکزی قانون اور یکساں رہنما ہدایات بنانے کی درخواست سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی پر منگل کو سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی۔ موہنا کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ اس مفاد عامہ کی عرضی میں اٹھائے گئے مسائل پر پہلے ہی فیصلہ سنا چکی ہے۔

بنچ نے کہا کہ ان ہدایات پر عمل درآمد کے لیے نئی عرضی پر سماعت نہیں کی جا سکتی۔ تاہم، بنچ نے عرضی گزار یادوی آدتیہ راسیواسیا کے وکیل کو متعلقہ حکام کے سامنے اپنا موقف رکھنے کی اجازت دے دی۔ عرضی میں مرکزی حکومت، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) اور انڈین اسکول سرٹیفکیٹ ایگزامینیشن کونسل (سی آئی ایس سی ای) کو فریق بنایا گیا تھا۔

عرضی میں کہا گیا، ’’ایک رِٹ، حکم یا ہدایت جاری کی جائے، جس کے تحت مدعا علیہ نمبر ایک اور دو (مرکزی وزارتوں) کو اسکولوں اور پری یونیورسٹی (ہائر سیکنڈری تعلیمی اداروں) میں طلبہ کو ہراساں کرنے اور رَیگنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب مرکزی قانون بنانے اور اسے نافذ کرنے کی ہدایت دی جائے۔‘‘

عرضی میں مجوزہ مرکزی قانون کے لیے اضافی رہنما ہدایات بنانے کا حکم دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے، جن پر اسکولوں اور ہائر سیکنڈری تعلیمی اداروں کے لیے عمل کرنا لازمی ہو، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ طلبہ کو ہراساں کرنے اور رَیگنگ سے متعلق شکایات پر مؤثر طریقے سے غور کیا جائے اور ان کا ازالہ کیا جائے۔ عرضی گزار نے نصاب میں طلبہ کو دھمکانے اور رَیگنگ کے نقصانات سے متعلق ایک مضمون کو لازمی طور پر شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ عرضی میں یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ تمام مرکزی اور ریاستی تعلیمی بورڈز کے نصاب میں ایسے موضوع کو شامل کیا جائے۔