دہلی میں احتجاج سے متعلق عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
دہلی میں احتجاج سے متعلق عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی
دہلی میں احتجاج سے متعلق عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج سے پہلے دہلی میں میٹرو اسٹیشن بند کیے جانے اور ٹرین خدمات میں خلل ڈالنے سے متعلق عرضیوں پر سماعت جمعرات، 15 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے بھی 15 اکتوبر تک کا وقت دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کو منگل کو ان سے متعلق کئی عرضیوں پر اہم سماعت کرنی تھی، لیکن جسٹس موہنا کی طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے سبب سماعت ملتوی کر دی گئی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے وکلا کو بتایا کہ جسٹس موہنا کی طبیعت ناساز ہے، اس کے باوجود وہ عدالت آئی ہیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن سمیت دیگر وکلا نے بھی سماعت ملتوی کرنے سے اتفاق کیا۔ تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے میٹرو اور ٹرین خدمات مکمل طور پر بند نہ کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل نہ کرنے کے الزام میں توہین عدالت کی جو عرضی دائر کی گئی ہے، اس پر جواب داخل کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو منگل تک کا وقت دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، ’’حلف نامہ تیار ہے۔ میں اسے مزید تفصیلی بنانے کے لیے اس میں کچھ اور باتیں شامل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ بنچ نے حلف نامہ داخل کرنے کے لیے وقت بڑھاتے ہوئے ہدایت دی کہ اس کی ایک نقل عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا کو بھی فراہم کی جائے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور گوپال شنکر نارائنن کے علاوہ سینئر وکلا مینکا گرو سوامی، اروندھتی کاٹجو، سی یو سنگھ، نتیا رام کرشنن اور اندرا جے سنگھ بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔ سپریم کورٹ نے غیر سرکاری تنظیم ’ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز‘ (اے ڈی آر) کی جانب سے دائر ایک نئی عرضی پر بھی نوٹس جاری کیا۔

اس عرضی میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں سے متعلق قانون کی دفعہ 16 کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کو سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران کیے گئے بعض کاموں کے سلسلے میں قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہے۔ اے ڈی آر نے اس دفعہ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ عدالت نے احتجاج کے دوران رپورٹنگ کرنے والی خاتون صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ کے الزامات پر جواب دینے کے لیے دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر کو بھی پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے پہلے اتوار کو خصوصی سماعت کے دوران بنچ نے ہدایت دی تھی کہ کسی بھی شخص کو قانون کے ذریعے مقرر کردہ طریقۂ کار کے علاوہ حراست میں نہ لیا جائے۔

عدالت نے خاص طور پر ان علاقوں میں پُرامن اجتماعات کا ذکر کیا تھا جہاں بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ نہیں ہیں۔ عدالت نے حکام کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ اگر سپریم کورٹ کے آس پاس دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ ہونے کی اطلاع دینے والا بورڈ اب تک نہیں ہٹایا گیا ہے تو اسے ہٹا دیا جائے، تاکہ لوگوں کو عدالتوں تک پہنچنے میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔

بنچ نے یہ بھی کہا تھا کہ میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق چلنی چاہئیں۔ ان پر پابندی صرف اسی صورت میں لگائی جانی چاہیے جب آئین کے آرٹیکل 19(2) کے تحت امن عامہ میں خلل سے نمٹنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو۔ یہ سماعت چیف الیکشن کمشنر اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے خلاف احتجاج سے پہلے مرکزی حکومت اور دہلی کے حکام کی جانب سے عائد پابندیوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر ہو رہی ہے۔ 9 اکتوبر کو چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ 10 اکتوبر کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (کاجپا) اور دیگر تنظیموں کے مجوزہ احتجاج کے پیش نظر دہلی میں ٹرین اور میٹرو خدمات مکمل طور پر بند نہ کی جائیں۔