سپریم کورٹ نے طالب علم کے خلاف کارروائی بند کی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
سپریم کورٹ نے طالب علم کے خلاف کارروائی بند کی
سپریم کورٹ نے طالب علم کے خلاف کارروائی بند کی

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو گوتم بدھ یونیورسٹی کے قانون کے طالب علم اکشت ترپاٹھی کے خلاف شروع کی گئی کارروائی بند کردی۔ اتر پردیش انتظامیہ نے گریٹر نوئیڈا میں مجوزہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے احتجاج کے لیے طلبہ کو جمع کرنے میں مبینہ کردار کے معاملے میں اکشت ترپاٹھی کو جاری کیا گیا احتیاطی نوٹس واپس لے لیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ، جس میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی. موہنا بھی شامل تھے، نے کہا کہ اکشت ترپاٹھی کے خلاف 5 لاکھ روپے کے بانڈ سے متعلق نوٹس کی بنیاد پر کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔

سپریم کورٹ ترپاٹھی کی اس عرضی پر سماعت کر رہا تھا جس میں گریٹر نوئیڈا کے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی جانب سے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعات 126 اور 130 کے تحت جاری نوٹس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ نوٹس میں ترپاٹھی سے 5 لاکھ روپے کا ذاتی بانڈ اور اتنی ہی رقم کی دو ضمانتیں جمع کرانے کو کہا گیا تھا۔ یہ نوٹس اس الزام کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا کہ انہوں نے ساتھی طلبہ کو مجوزہ سی جے پی دھرنے میں شرکت کے لیے ترغیب دی تھی۔ سماعت کے دوران اتر پردیش انتظامیہ کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے بنچ کو بتایا کہ نوٹس پہلے ہی واپس لیا جاچکا ہے۔

بنچ نے ان کے بیان کو ریکارڈ پر لیا اور ہدایت دی کہ نوٹس کے تحت ماضی میں کی گئی کسی بھی کارروائی کو منسوخ تصور کیا جائے۔ بنچ نے اپنے حکم میں کہا، ’’محترمہ بھاٹی عدالت میں پیش ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوٹس پہلے ہی واپس لیا جاچکا ہے۔ ایسی صورت میں ہدایت دی جاتی ہے کہ نوٹس کے تحت ماضی میں کی گئی کوئی بھی کارروائی منسوخ تصور کی جائے گی اور اس کے نتیجے میں عرضی گزار کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔‘‘

عرضی میں مجوزہ طلبہ تحریک کے سلسلے میں ترپاٹھی کے خلاف شروع کی گئی احتیاطی کارروائی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے گریٹر نوئیڈا کے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی جانب سے طالب علم کو نوٹس جاری کیے جانے پر سخت اعتراض کیا تھا۔ عدالت نے پہلے ہی احتجاج کے سلسلے میں طلبہ کے خلاف سخت کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا تھا کہ جب سپریم کورٹ طلبہ کے احتجاج سے متعلق ایف آئی آر منسوخ کرچکی ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی پر روک لگا چکی ہے تو مجسٹریٹ ایسا نوٹس کیسے جاری کرسکتے تھے۔