نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی روک تھام میں سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کی لاپروائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ ہر پلیٹ فارم اس بات کو یقینی بنائے کہ سبسکرپشن کے ذریعے ایسا کوئی مواد اپ لوڈ نہ کیا جائے جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہو۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسے مواد کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر فروغ نہیں دیا جانا چاہیے۔
جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے کہا کہ عدالت بار بار اس جانب توجہ دلا چکی ہے کہ سوشل میڈیا کے درمیانی اداروں اور پلیٹ فارموں نے 2024 میں جاری کی گئی عدالتی ہدایات پر عمل نہیں کیا، لیکن اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بنچ نے کہا، ’’ہر درمیانی ادارے کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پیسے دے کر یا سبسکرپشن کے ذریعے، براہ راست یا بالواسطہ، بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق کوئی بھی مواد، یا بچوں کو نقصان پہنچانے والا کوئی دوسرا مواد، نہ تو دستیاب کرایا جائے، نہ اپ لوڈ کیا جائے، نہ اس کی تشہیر کی جائے اور نہ ہی اسے پھیلایا جائے۔‘‘
عدالت نے کہا کہ اس نے پہلے بھی نشاندہی کی ہے کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم کے ذریعے ایسے نقصان دہ مواد کے بالواسطہ روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس طریقے سے سائبر دنیا میں بچوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے سخت قانونی ضابطوں سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان میں بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ دینے کے قانون، یعنی پوکسو ایکٹ کی دفعہ 15 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67 بی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے 15 اکتوبر کو کہا تھا کہ اس کے فیصلے کو آئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔
عدالت نے کہا کہ حالیہ خبروں سے بچوں کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کے بارے میں مزید تشویش ناک صورت حال سامنے آئی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے سامنے لائی گئی خبروں کو دیکھ کر اسے گہرا دکھ ہوا ہے۔ کئی ہدایات جاری کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اتنے برسوں کے دوران نہ تو متعلقہ ضابطہ کار اداروں اور نہ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارموں نے کوئی سنجیدہ قدم اٹھا
اس لیے سپریم کورٹ کے پاس معاملے کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کے لیے ایک طریقۂ کار تیار کرنے پر غور کرے۔ عدالت نے کہا کہ جرمانے کی رقم طے کرتے وقت خلاف ورزی کی سنگینی، اس کی مدت اور بار بار ہونے کی صورت حال کے ساتھ متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے حجم اور کاروبار کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔