نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو ممتا بنرجی کی قیادت والے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے دھڑے کی اس عرضی کو خارج کردیا، جس میں چار ڈیبٹ فریز کیے گئے بینک اکاؤنٹس کو چلانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے کی بنچ نے کہا کہ وہ کلکتہ ہائی کورٹ کے اس حکم میں مداخلت کرنے کے حق میں نہیں ہے، جس میں ٹی ایم سی دھڑے کی درخواست کو منظور کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کے انتخابی نشان کو منجمد کر رکھا ہے اور اس لیے بنیادی سوال، یعنی رقم پر حق کس کا ہے، ابھی عدالت میں زیر غور ہے۔ بنچ نے کہا، ’’ہم معاملے کے میرٹ میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت اپنے اختیار کا استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہم ہائی کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ سماعت میں تیزی لائی جائے۔‘
‘ کلکتہ ہائی کورٹ نے 27 اگست کو ممتا بنرجی کی قیادت والے ٹی ایم سی دھڑے کو تقریباً 804 کروڑ روپے رکھنے والے چار ڈیبٹ فریز بینک اکاؤنٹس چلانے کی اجازت دینے سے متعلق عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ایسی راحت دینا اس کے پہلے کے حکم کو کمزور کرے گا، جس کے تحت سیاسی پارٹی کو روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ٹی ایم سی نے سرکاری شعبے کے بینکوں میں موجود چار اکاؤنٹس چلانے کی اجازت مانگی تھی۔ ان اکاؤنٹس کو مغربی بنگال پولیس نے ڈیبٹ فریز کیا ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ اکاؤنٹس منجمد کرنے سے متعلق ایف آئی آر میں قانونی خامیاں موجود ہیں۔