نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2003 میں چاقو اور بندوق سے حملہ کرنے کے معاملے میں قصوروار قرار دیے گئے دو افراد کو اچھے برتاؤ سے متعلق ایک قانونی دفعہ کے تحت پروبیشن پر رہا کرنے کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ کی سخت تنقید کی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جرم کی سنگینی کے باوجود غلط ہمدردی دکھانے کے سبب دونوں قصوروار ایک دن بھی جیل میں نہیں رہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے کہا کہ کسی ملزم کو اچھے برتاؤ کی بنیاد پر رہا کرنا مناسب ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ کرتے وقت معاملے کے حالات، جرم کی نوعیت اور مجرم کے طرز عمل کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ موجودہ معاملے میں ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے دونوں ملزمین کو دو ہفتوں کے اندر خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بہرائچ کی ایڈیشنل سیشن عدالت ان کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کرے گی۔ یہ معاملہ کاروباری رقابت کے سبب پیش آیا تھا۔ شکایت کنندہ نے اتر پردیش کے بہرائچ ضلع میں ملزم کی دکان کے قریب اپنی ایک دکان کھولی تھی۔ واقعے کے دن ایک ملزم کے پاس تیز دھار ہتھیار تھا، جبکہ دوسرے کے پاس بندوق تھی۔ دونوں نے متاثرہ شخص پر بے رحمی سے حملہ کیا، جس سے اسے شدید چوٹیں آئیں اور وہ بے ہوش ہوگیا۔ اس کے بعد اسے بہرائچ کے اسپتال لے جایا گیا۔
سپریم کورٹ نے مجرموں کو پروبیشن پر چھوڑنے سے متعلق 1958 کے قانون کی دفعہ 4 کو نافذ کرنے کے ہائی کورٹ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ملزمین کے پہلی بار جرم کرنے کو تو اہمیت دی، لیکن جرم کی سنگینی اور متاثرہ شخص کو پہنچنے والی شدید چوٹوں کو نظر انداز کردیا۔ بنچ نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ کیوں کیا کہ ملزمین گزشتہ 22 برس سے پریشان ہو رہے ہیں، حالاں کہ وہ ضمانت پر تھے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
عدالت نے کہا کہ اسے یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ ماتحت عدالت اور ہائی کورٹ، دونوں نے معاملے کا نوٹس لینے سے لے کر متعلقہ قانون کے تحت ملزمین کو رہائی دینے تک، کتنی لاپروائی سے کام لیا۔ بنچ کے مطابق، دونوں ملزم ایک دن بھی جیل میں گزارے بغیر سزا سے بچ نکلے۔ اس کی بنیادی وجہ قانون کی وسیع تشریحات کی بنیاد پر دکھائی گئی ایسی غلط ہمدردی تھی، جس کا اس معاملے کے حقائق سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ جرم کی سنگینی اور متاثرہ شخص کو پہنچنے والی شدید چوٹوں کو دیکھتے ہوئے عدالت کو جرم کی نوعیت کے پہلو پر واضح نتیجہ اخذ کرنا چاہیے تھا۔ عدالت نے ماتحت عدالت کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے تعزیراتِ ہند کی دفعہ 307، یعنی قتل کی کوشش، کے بجائے دفعہ 308، یعنی غیر ارادی قتل کی کوشش، کے تحت الزامات طے کیے تھے۔ بنچ نے ہدایت دی کہ فوجداری اپیلوں کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں بحال کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ وہ ان اپیلوں پر سماعت اسی وقت کرے، جب یہ یقینی ہوجائے کہ دونوں ملزمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔