سہیل احمد زیدی کی غزلوں میں وہ تمام صفات یکجا ہیں جو اعلی پائے کی غزل کا طرہ امتیاز ہیں۔پروفیسر احمد محفوظ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-10-2026
سہیل احمد زیدی کی غزلوں میں وہ تمام صفات یکجا ہیں جو اعلی پائے کی غزل کا طرہ امتیاز ہیں۔پروفیسر احمد محفوظ
سہیل احمد زیدی کی غزلوں میں وہ تمام صفات یکجا ہیں جو اعلی پائے کی غزل کا طرہ امتیاز ہیں۔پروفیسر احمد محفوظ

 



لکھنؤ :سہیل احمد زیدی کی غزلوں کا سرمایہ ایسا ہے جس میں کم و بیش وہ تمام صفات یکجا نظر آتی ہیں جو اعلی پائے کی غزل کا طرہ امتیاز سمجھی جاتی ہیں۔جدید غزل گو کی حیثیت سے شمس الرحمن فاروقی نے انھیں اعلی درجے کا غزل گو قرار دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر پروفیسر احمد محفوظ نے ’سہیل احمد زیدی:تخلیقی جہات اور ادبی خدمات‘ کے عنوان سے منعقد یک روزہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبے کے دوران کیا۔ادارہ ادب اسلامی ہند (یوپی مشرق)کے زیر اہتمام کیفی اعظمی اکیڈمی میں منعقد اس سمینارکی صدارت شعبہ اردو،علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے چیئر مین پروفیسر سراج اجملی نے فرمائی۔مہمانوں کا استقبال ادارہ کے کارگذار صدر عبید الرحمن ازہر نے کیا۔افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دی۔حافظ ابو اللیث نے قرآن پاک کی تلاوت فرمائی اور جناب نور الہدی لاری نے کلمات تشکر ادا کیے۔ مہمانوں کی خدمت میں اس موقع پر یادگاری نشان بھی پیش کئے گئے ۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر احمد محفوظ نے کہا کہ سہیل احمد زیدی کی شعر گوئی کا آغاز نظموں سے ہوا۔پہلا مجموعہ کلام ’صنوبروں کا شہر‘سے اس بات کا واضح احساس ہوتاہے کہ شاعر کو دنیااور انسان سے متعلق ان مظاہر سے خصوصی دلچپسی ہے جو زندگی میں مثبت قدر رکھتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اردو کی کلاسیکی اور جدید شعری روایت کے اثرات زیدی کی غزلوں میں موج تہ نشیں کی طرح زیادہ محسوس کیے جاسکتے ہیں۔پروفیسر احمد محفوظ نے اس بات پر زور دیا کہ سہیل احمد زیدی کی غزل کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں ایسے اشعارکی کثرت ہے جو بظاہر سادہ معلوم ہوتے ہیں لیکن ان میں معنی کی پرکاری زیریں لہرکی صورت میں اپنا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔پروفیسر احمد محفوظ نے کہا کہ سہیل احمد زیدی کی علم و ادب سے گہری وابستگی اورسلامت فکر نے الہ آبادکے ارباب علم کو ان کا گرویدہ بنا رکھا تھا۔الہ آباد کے بہت سے لوگوں نے زیدی صاحب سے ادبی وفکری تربیت حاصل کی۔ سہیل احمد زیدی کی ادبی شخصیت کو نئی نسل سے متعارف کرانے میں اس سمینار کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر سراج اجملی نے کہا کہ سہیل احمد زیدی نے کئی نسلوں کی ادبی تربیت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پچھلی صدی کی چھٹی دہائی میں ہوش سنبھالنے والی نسل اور پچھلی صدی کی آخری دہائی میں ادبی زندگی کا آغاز کرنے والی نسل کے جن نمائندوں کو سہیل احمد زیدی کی تربیت نصیب ہوئی ان میں عبدالحمید اور احمد محفوظ تو آج رونق محفل ہیں۔پروفیسر اجملی نے کہا کہ 90کی دہائی میں الہ آباد میں ادبی تربیت گاہ کی حیثیت سے سہیل احمد زیدی کے گھر پر ہر ماہ کے آخری اتوار کوپابندی(وقت/تاریخ)کے ساتھ منعقد ہونے والی نشستوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اتفاق سے خاکسار کا تعلق بھی الہ آباد سے ہے، اس کی تربیت میں بھی سہیل احمد زیدی کی شاعری اور ان کی گفتگو کا وافر حصہ ہے۔
سمینارکا افتتاح کرتے ہوئے جامعۃ الفلاح کے سابق ناظم مولانا محمد طاہر مدنی نے سہیل احمد زیدی کو ایک عہدساز شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند ادبی تحریک کے زمانے میں انہوں نے ادب اسلامی کا علم اٹھایا اور قرآن کی روشنی میں حیات و کائنات کے رموز کو اجاگر کیا۔انھوں نے کہا کہ نثر ونظم دونوں میں زیدی صاحب کمال رکھتے تھے۔وہ ایک بہترین مزاح نگار بھی تھے۔مولانا محمد طاہر مدنی نے کہا کہ الہ آباد جن ادبی شخصیات کے حوالے سے جانا جاتا ہے، ان میں سہیل احمدزیدی کی شخصیت بہت نمایاں ہے۔مولاناطاہر مدنی نے کہا کہ انھوں نے نوجوان ادیبوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کیا۔امید ہے یہ قومی سمینار ان کی تخلیقی جہات اور ادبی خدمات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
سمینار کا پہلا اجلاس پروفیسر احمد محفوظ کی صدارت میں شروع ہوا،جس کی نظامت اسامہ طیب نے انجام دیا۔اس اجلاس میں سہیل احمد زیدی کی شخصیت اور ان کے فن پر جناب اویس سنبھلی(سہیل احمد زیدی کی نثر نگاڑے حضور کے حوالے سے)،ڈاکٹر مجتبی حسن صدیقی(سہیل احمد زیدی کی نظم’بن باس‘کا تجزیاتی مطالعہ)،جناب فیصل خاں (سہیل احمد زیدی کی نظموں میں اسلامی تلمحات کا فکروعصری تناظر)،جناب ایس ایم حسینی(سہیل احمد زیدی کی نثر نگاری:’صاحبو‘حوالے سے)،جناب ذاکر انور(سہیل احمد زیدی کی شعری جہات)،جناب محمد نسیم فیضی(سہیل احمد زیدی کی نثر نگاری) نے مقالے پڑھے۔
اس موقعے پر حکیم وسیم احمد اعظمی،پروفیسر ہما یعقوب،پروفیسر ریشما پروین،جناب ہارون رشید،محمد علی زیدی،فراز احمد،سید ایاز احمد،سید شیراز احمد ڈاکٹر شاہ محمد فائز،راجیو پرکاش ساحر، جناب معاذ احسن،احسن قدوائی،اشعر علیگ،،ڈاکٹر اکبر علی،طاہر جمال،وغیرہ شریک ہوئے ۔