نئی دہلی: وزارت خزانہ ماہانہ جی ایس ٹی ریٹرن فارم میں مجوزہ تبدیلیوں پر یکم نومبر سے کاروباری اداروں کی رائے طلب کرے گی۔ ایک سینئر افسر نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ مرکزی بالواسطہ ٹیکس اور کسٹم بورڈ (سی بی آئی سی) کے جی ایس ٹی پالیسی شعبے کے کمشنر گورو سنگھ نے کہا کہ محکمہ جی ایس ٹی آڈٹ کے عمل کو بھی آسان اور منظم بنانے کی سمت میں کام کرے گا۔ مرکز اور ریاستوں کے وزرائے خزانہ پر مشتمل جی ایس ٹی کونسل کے 57ویں اجلاس میں جی ایس ٹی ریٹرن میں ٹیکس کی واجب الادا رقم اور ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) میں ترمیم کے لیے ایک متبادل نظام کو منظوری دی گئی تھی۔
اس کا مقصد حسابات میں فرق کو کم کرنا اور ٹیکس دہندگان کو نوٹس یا اطلاعات بھیجنے کی ضرورت گھٹانا ہے۔ کونسل نے جی ایس ٹی آر-1، جی ایس ٹی آر-1اے اور آئی ایف ایف فارم میں تبدیلیوں کو بھی منظوری دی تھی، تاکہ ان فارموں میں درج معلومات کا ماہانہ ٹیکس ادائیگی کے فارم جی ایس ٹی آر-3بی میں دی گئی تفصیلات سے بہتر طور پر موازنہ کیا جاسکے۔
گورو سنگھ نے بتایا کہ ترمیم شدہ جی ایس ٹی ریٹرن فارم یکم نومبر کو مائی گوو پلیٹ فارم پر عوامی مشاورت کے لیے دستیاب کرائے جائیں گے۔ ان پر 30 نومبر تک تجاویز دی جاسکیں گی۔ ترمیم شدہ جی ایس ٹی ریٹرن فارم یکم اپریل 2027 سے نافذ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ 8 اکتوبر کو منعقدہ جی ایس ٹی کونسل کے 57ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے متعلق نوٹیفکیشن اور سرکلر کی قانون کے شعبے نے جانچ کرلی ہے۔ انہیں جمعہ کو عام کردیا جائے گا۔ گورو سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے سلسلے میں پائے جانے والے مسائل دور ہونے سے اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) میں مزید اصلاحات کی رفتار تیز ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’آڈٹ کے معاملے میں ہمیں جائزہ لینا ہوگا۔‘
‘ جی ایس ٹی پالیسی شعبے کے کمشنر نے کہا کہ ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں ٹیکس دہندگان کو ’’پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘ فی الحال، ایک سے زیادہ ریاستوں میں کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو متعلقہ ریاستوں کے جی ایس ٹی افسران کی جانب سے کئی مرتبہ آڈٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔