نئی دہلی،:اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں کے سلسلے میں اردو ڈرامہمقابلہ برائے مڈل زمرہ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس مقابلے میں دہلی کے 18 اسکولوں کی ٹیموں نے حصہ لیا اور مختلف سماجی و معاشرتی موضوعات پر اپنے ڈرامے پیش کیے۔ طلبہ و طالبات کی عمدہ اداکاری اور ڈراموں کی مؤثر پیشکش نے جج صاحبان کو متاثر کیا۔اردو اکادمی دہلی ہر سال اسکولوں کے طلبہ و طالبات میں تعلیم اور اردو زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنے کے ساتھ ان میں مسابقت کا جذبہ فروغ دینے کے لیے مختلف تعلیمی و ثقافتی مقابلوں کا اہتمام کرتی ہے۔ ان مقابلوں میں تقریری اور فی البدیہہ تقریری مقابلے کے علاوہ بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوش خطی، بلند خوانی، گروپ سانگ اور امنگ پینٹنگ جیسے مقابلے شامل ہیں۔ یہ مقابلے پرائمری سے سینئر سیکنڈری سطح تک کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے درمیان منعقد کیے جاتے ہیں۔
اکادمی کی جانب سے مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام طلبہ و طالبات کو ایک سال تک ماہنامہ رسالہ ’’بچوں کا ماہنامہ امنگ‘‘ مفت ارسال کیا جائے گا۔ اس کا مقصد بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا اور انہیں اردو زبان و ادب سے مزید قریب لانا ہے۔اردو ڈرامہمقابلہ برائے مڈل زمرہ چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ و طالبات کے درمیان صبح 10 بجے منعقد ہوا۔ اس موقع پر دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پروفیسر محمد کاظم اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کے ڈاکٹر جاوید حسن نے جج صاحبان کی حیثیت سے شرکت کی۔

مقابلے کے اختتام پر جج صاحبان نے تمام ڈراموں کے موضوعات اور ان کی پیشکش کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر تمام ڈرامے اچھے تھے جبکہ بعض ٹیموں نے نہایت عمدہ اور متاثر کن انداز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے طلبہ کی اداکاری اور کرداروں کی ادائیگی کے ساتھ اسٹیج پر مکالموں کی پیشکش کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔جج صاحبان نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ڈراموں کے موضوعات عصر حاضر کے اہم سماجی اور معاشرتی مسائل سے متعلق تھے۔ ان موضوعات کے انتخاب سے طلبہ کے سماجی شعور اور اپنے گرد و پیش کے حالات سے ان کی واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مکالموں کی ادائیگی کے فنی تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر مکالمہ ایک خاص کیفیت اور جذبے کا اظہار کرتا ہے۔ اس لیے اسے کردار کی نفسیاتی کیفیت اور ڈرامے کی صورت حال کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے آواز کے اتار چڑھاؤ اور لہجے کی مناسبت کے ساتھ الفاظ کی درست ادائیگی، چہرے کے تاثرات، جسمانی حرکات اور مکالموں کے درمیان مناسب وقفے کی اہمیت بھی واضح کی۔ ان کے مطابق ان باریک فنی نکات پر توجہ دے کر ڈرامے کی پیشکش کو مزید مؤثر اور جاندار بنایا جا سکتا ہے۔

جج صاحبان نے اردو اکادمی دہلی کو اس طرح کے بامقصد مقابلوں کے انعقاد پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اکادمی طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں اظہار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ان کی ادبی و تخلیقی استعداد کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول جعفرآباد کی ٹیم نے اول مقام حاصل کیا۔ گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول چوہان بانگر جعفرآباد کی ٹیم دوسرے مقام پر رہی جبکہ الفلاح اسلامک اسکول شمالی گھونڈہ اور کریسنٹ اسکول دریا گنج کی ٹیموں کو مشترکہ طور پر تیسرے انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ حوصلہ افزائی کا انعام گورنمنٹ گرلز سینئر سیکنڈری اسکول جسولا گاؤں کی ٹیم کو دیا گیا۔
مقابلے میں بہترین اداکاری کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو انفرادی انعامات کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔ ان میں علینہ بنت اسماعیل (سروودیہ کنیا ودیالیہ نمبر 1 جامع مسجد)، محمد فرحان انصاری ولد اسلم انصاری (گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول ہری کیش نگر)، عفان ایوب ولد محمد ذاکر (اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول)، ابوسفان ولد ابوالحسن (ایم ایم اے پبلک اسکول مصطفیٰ آباد)، وقار فاطمہ بنت محمد بلال (حکیم اجمل خاں گرلز سینئر سیکنڈری اسکول)، عائشہ بنت الیاس (گورنمنٹ پریہ درشنی سروودیہ کنیا ودیالیہ فتح پور بیری)، مریم عنایہ بنت محمد لقمان (ہمدرد پبلک اسکول سنگم وہار)، تنزیلہ اکرام بنت اکرام الحسن (سید عابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول جامعہ ملیہ اسلامیہ)، ایشان ولد ناظر (گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول نمبر 2 تخمیرپور)، علیشا سیفی بنت شوقین علی (سی ایم شری اسکول راج نواس)، عمیرہ عثمان بنت محمد عثمان (سروودیہ کنیا ودیالیہ نور نگر) اور نمرہ بنت جمیل (سروودیہ کنیا ودیالیہ زینت محل جعفرآباد) شامل ہیں۔