نئی دہلی، :اردو اکادمی، دہلی اسکولوں کے طلبہ و طالبات میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنے اور ان میں مسابقت کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے ہر سال تعلیمی مقابلوں کا انعقاد کرتی ہے۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم مقام حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو انعامات سے نوازا جاتا ہے ، ان کے علاوہ حوصلہ افزائی کے انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔ ان مقابلوں میں تقریری، فی البدیہہ تقریری، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز (سوال و جواب)، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوش خطی، بلند خوانی، گروپ سانگ اور امنگ پینٹنگ کے مقابلے شامل ہیں۔ یہ مقابلے دہلی کے پرائمری سے لے کر سینئر سیکنڈری سطح تک کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے درمیان منعقد کیے جاتے ہیں۔
اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے ان مقابلوں میں شرکت کرنے والے تمام طلبا و طالبات کو، خواہ انھوں نے کوئی انعام حاصل کیا ہو یا نہیں، اکادمی کا ماہنامہ رسالہ ’’بچوں کا ماہنامہ امنگ‘‘ ایک سال تک مفت بھیجا جائے گا۔ یہ رسالہ ان کے گھر کے پتے پر ارسال کیا جائے گا، تاکہ بچوں میں مطالعے کا شوق پروان چڑھے اور وہ اردو زبان و ادب سے مزید قریب ہو سکیں۔
آج اردو ڈراما مقابلہ برائے سیکنڈری و سینئر سیکنڈری زمرہ (نویں تا بارہویں جماعت کے طلبہ و طالبات) منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر معروف ڈراما نگار و ہدایت کار جناب لوکیندر ترویدی، ڈاکٹر جاوید حسن اور جناب فہیم نے جج صاحبان کی حیثیت سے شرکت کی۔ مقابلے کے دوران مختلف موضوعات پر مبنی 10 ڈرامے پیش کیے گئے۔
ڈراموں کے اختتام پر جناب لوکیندر ترویدی اور جناب فہیم نے تمام ڈراموں کے موضوعات اور پیشکش کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام ڈرامے اچھے تھے، جب کہ بعض ڈرامے نہایت عمدہ تھے۔ انھوں نے طلبا کی اداکاری اور ڈراموں کی پیشکش کی تعریف کی اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ڈراموں کے موضوعات عصرِ حاضر کے مسائل سے متعلق تھے۔ انھوں نے طلبا اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیج پر مکالموں کی ادائیگی کے مختلف طریقوں اور اس کی باریکیوں پر روشنی ڈالی اور وضاحت کی کہ کس مکالمے کو کس انداز میں پیش کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے ڈراموں میں پوشیدہ باریک نکات کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کی اہمیت سے بھی طلبا کو آگاہ کیا۔انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کو اس طرح کے مقابلوں کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اردو اکادمی، دہلی طلبا کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں ایک اہم کارنامہ انجام دے رہی ہے۔
جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق پہلے انعام کے لیے سروودیہ کنیا ودیالیہ، نور نگر، اوکھلا، دوسرے انعام کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد اور تیسرے انعام کے لیے گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول نمبر 2، تخمیر پور کو منتخب کیا گیا، جب کہ حوصلہ افزائی کے انعام کے لیے کریسنٹ اسکول، دریا گنج کا انتخاب عمل میں آیا۔
آج پیش کیے گئے ڈراموں میں مختلف کرداروں کو عمدگی سے ادا کرنے پر عبدالباسط علی ولد اکرم علی( گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول نمبر 2، تخمیر پور)،فیضان نواب ولد فیصل نواب( کریسنٹ اسکول، دریا گنج)،محمد وارث ولد محمد طارق ( ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد)،منہا عزیز بنت عزیزالحق( سروودیہ کنیا ودیالیہ، نور نگر، اوکھلا)محمد تابش تاج ولد محمد تنویر عالم ( سید عابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ)،شاہنواز محمد عقیل ( راجدھانی پبلک اسکول، شیو وہار)،کشف فاطمہ بنت محمد عابدین ( اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ)،سبحانہ بنت محمد عارف( حکیم اجمل خاں گرلز سینئر سیکنڈری اسکول، دریا گنج) اورفلک بنت محمد عارف( زینت محل سروودیہ کنیا ودیالیہ، جعفرآباد) کو انفرادی انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔
جج صاحبان نے انعام حاصل کرنے والی ہر ٹیم کے تمام بچوں کو اردو اکادمی، دہلی کی جانب سے بطورِ ٹوکن انعام کافی کا مگ پیش کیا۔