خواتین وکلا کے لیے بار روم اور بیت الخلا کی تعمیر کے لیے رقم مختص کریں ریاستی حکومتیں

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 26-10-2026
خواتین وکلا کے لیے بار روم اور بیت الخلا کی تعمیر کے لیے رقم مختص کریں ریاستی حکومتیں
خواتین وکلا کے لیے بار روم اور بیت الخلا کی تعمیر کے لیے رقم مختص کریں ریاستی حکومتیں

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ ضلع اور تحصیل کی عدالتوں میں خواتین وکلا کے لیے الگ بار روم، بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولتوں کی تعمیر کے لیے رقم مختص کریں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے خواتین وکلا کے لیے بار روم کی کمی پر ناراضگی ظاہر کی۔ بنچ نے کہا کہ خواتین وکلا کی تعداد کتنی بھی ہو، انہیں یہ سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔

بنچ نے کہا، ’’اگر خواتین وکلا کے لیے بار روم موجود نہیں ہیں تو ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ تمام ہائی کورٹس اور ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ جہاں بھی خواتین وکالت کر رہی ہیں، وہاں انہیں تمام ضروری سہولتوں سے آراستہ الگ بار روم فراہم کیا جائے۔‘‘ سپریم کورٹ نے مزید کہا، ’’یہ لازمی ہدایت ہے اور ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتے۔

اس پر عمل درآمد کے لیے اگر اضافی رقم یا زمین کی ضرورت ہو تو اس کا بھی انتظام کیا جانا چاہیے۔ جو کچھ ضروری ہے، وہ کیا جائے۔‘‘ بنچ نے اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 2 دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ سپریم کورٹ خواتین وکلا کے ایک گروپ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ درخواست میں عدالت سے اپیل کی گئی تھی کہ قانونی پیشے سے وابستہ خواتین وکلا کے لیے بہتر سہولتیں، مساوی مواقع اور ایسا ماحول یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں جہاں وہ طویل وقت تک کام کر سکیں۔

اس سے پہلے بھی عدالت نے ایسے ماحول کی ضرورت پر زور دیا تھا جہاں خواتین وکلا محفوظ رہتے ہوئے اور مساوی مواقع کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔ ملک بھر کی بیشتر عدالتوں، ٹریبونلوں اور کمیشنوں میں خواتین وکلا کے لیے مناسب سہولتوں والے بار روم اور دیگر ضروری انتظامات کی کمی کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس میں اٹھائے گئے مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ان خدشات کو محض سہولتوں سے متعلق معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔