اسٹالن کا وزیر اعلیٰ وجے پر ’سیاسی منافقت‘ اور انتظامی ناکامی کا الزام

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 26-09-2026
اسٹالن کا وزیر اعلیٰ وجے پر ’سیاسی منافقت‘ اور انتظامی ناکامی کا الزام
اسٹالن کا وزیر اعلیٰ وجے پر ’سیاسی منافقت‘ اور انتظامی ناکامی کا الزام

 



چنئی: دراوڑ منیتر کژگم (ڈی ایم کے) کے صدر ایم کے اسٹالن نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی. جوزف وجے کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر ’’سیاسی منافقت اور انتظامی ناکامی‘‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ جمعہ کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ میں اسٹالن نے 6 اکتوبر کو ہونے والے اسمبلی ضمنی انتخاب سے پہلے مدورانتکم میں وجے کی انتخابی تقریر پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے وجے کے اس بیان کا مذاق اڑایا جس میں انہوں نے تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کو ’’پاک طاقت‘‘ اور ڈی ایم کے کو ’’بری طاقت‘‘ قرار دیا تھا۔ اپنی انتخابی تقریر میں وجے نے ایک بار پھر ڈی ایم کے کو ’’بری طاقت‘‘ قرار دیا۔

وہ رواں سال اپریل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے سے ہی ڈی ایم کے پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں۔ وجے نے ڈی ایم کے، آل انڈیا انا دراوڑ منیتر کژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان ملی بھگت کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جیم گرینائٹس کے چیئرمین آر. ویرا منی سے متعلق مشہور پوکسو معاملے کو سابقہ ڈی ایم کے حکومت نے ’’دبا دیا‘‘ تھا۔ اسٹالن نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، ’’اگرچہ وزیر اعلیٰ وجے نے کہا ہے کہ انہوں نے فلموں میں اداکاری چھوڑ دی ہے، لیکن وہ اب بھی عوام کے سامنے اداکاری کر رہے ہیں۔

آج میں نے مدورانتکم میں شوٹنگ کے دوران آپ کے مکالمے بولنے کا انداز دیکھا۔ میرے پاس آپ سے کچھ سوال ہیں۔‘‘ اسٹالن کا یہ تبصرہ وجے کے اس بیان کے حوالے سے تھا جس میں انہوں نے ڈی ایم کے کو ’’بری طاقت‘‘ اور ٹی وی کے کو ’’پاک طاقت‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کے. مراگدھم کمار ویل سمیت اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق رہنماؤں کو ٹی وی کے میں شامل کیے جانے کی طرف بھی اشارہ کیا۔ کمار ویل کو ضمنی انتخاب میں ٹی وی کے کا امیدوار بنایا گیا ہے۔ اسٹالن نے سوال اٹھایا کہ ایسے لوگوں کو پارٹی میں شامل کیے جانے کے بعد ٹی وی کے خود کو ’’پاک طاقت‘‘ کیسے قرار دے سکتی ہے۔

انہوں نے وجے پر حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے بجائے بی جے پی کے سامنے ’’سرنڈر‘‘ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اسٹالن نے پوچھا، ’’حکومت بننے کے بعد آپ نے بی جے پی کے خلاف کتنی بار بات کی ہے؟ آپ نے کتنے احتجاج کی قیادت کی ہے؟ بی جے پی کے خلاف آپ نے جو کچھ کیا، کیا وہ صرف پُرامن انقلاب تھا یا دراصل سرنڈر تھا؟‘‘ اسٹالن نے الزام لگایا کہ ٹی وی کے نے بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ووٹنگ کے دوران انگلی پر لگائی جانے والی ناقابلِ مٹائی سیاہی کا نشان مٹنے سے پہلے ہی اے آئی اے ڈی ایم کے کے ارکان اسمبلی کو توڑ کر اپنے ساتھ شامل کرنے کی کارروائی کو ’’پاک طاقت‘‘ کہا جا سکتا ہے؟ حکمران جماعت تملگا ویٹری کژگم کے کام کاج پر تنقید کرتے ہوئے اسٹالن نے الزام لگایا کہ اس کی فلاحی اسکیمیں دراصل ڈی ایم کے کی ہی اسکیمیں ہیں، جنہیں صرف نئے ناموں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اسٹالن نے بجلی کی کٹوتی، مہنگائی، دودھ کی قلت اور امن و قانون سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔