ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے اکیسویں فقہی اجتماع کا آغاز

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-09-2026
ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے اکیسویں فقہی اجتماع کا آغاز
ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے اکیسویں فقہی اجتماع کا آغاز

 



نئی دہلی: ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام تین روزہ اکیسویں فقہی اجتماع کا آغاز بدھ کو بعد نماز عصر مدنی ہال دفتر جمعیۃ علماء ہند نئی دہلی میں ہوا۔ افتتاحی نشست کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی نے کی۔ اجتماع میں ملک کے مختلف صوبوں سے فقہ وفتاویٰ سے وابستہ تقریباً 300 مفتیان کرام علماء اور ماہرین شریک ہیں جو مختلف موضوعات پر اپنے علمی مقالات پیش کریں گے۔

افتتاحی خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی نے کہا کہ آج فقہی مسائل پر غور وفکر ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انسانی زندگی کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ہر نئی تبدیلی اپنے ساتھ نئے سوالات لے کر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کامل ہے اور اس کے اصول جامع ہیں تاہم واقعات اور حالات کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ ایک ہی شرعی اصول مختلف حالات میں مختلف صورتوں پر منطبق ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی نئے مسئلے پر حکم لگانے سے پہلے اس کی حقیقت اور نوعیت کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ آج کے پیچیدہ مسائل کو ایک فرد کے لیے ان کے تمام پہلوؤں کے ساتھ سمجھنا آسان نہیں۔ ایک مسئلہ بیک وقت فقہ طب قانون معاشیات ٹیکنالوجی اور سماجیات سمیت متعدد علوم سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اس لیے فقہی اداروں کو ایسے علمی مراکز اور تحقیقی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں فقہاء اور مختلف شعبوں کے ماہرین باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ طبی مسائل میں ماہر ڈاکٹروں سے طبی حقیقت معلوم کی جائے۔ مالیاتی معاملات میں ماہرین معاشیات سے متعلقہ نظام کو سمجھا جائے۔ ٹیکنالوجی سے متعلق مسائل میں ماہرین سے اس کی ساخت اور عملی صورت حال معلوم کی جائے اور پھر ان معلومات کی روشنی میں شرعی اصولوں کا درست انطباق کیا جائے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے فتویٰ نویسی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے دین زندگی کاروبار خاندان اور بعض اوقات اپنی جان سے متعلق فیصلوں کے لیے علماء اور مفتیان کرام سے رجوع کرتے ہیں۔ اس لیے فتویٰ کے معاملے میں جلد بازی کی کوئی گنجائش نہیں۔ فتویٰ وقتی جذبات کے بجائے علم تقویٰ تحقیق اور حکمت کی بنیاد پر مدلل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں فتویٰ صرف جائز یا ناجائز بتا کر ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کو اصول شرع کی روشنی میں جائز محفوظ اور عملی راستہ بھی دکھانا چاہیے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ شریعت لوگوں کے لیے محض احکام کا مجموعہ نہ رہے بلکہ ان کی عملی زندگی میں ہدایت توازن خیر اور اطمینان کا ذریعہ بنے۔

امیر الہند حضرت مولانا سید محمد ارشد مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فقہ کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر ہے۔ غیر منصوص مسائل کو منصوص مسائل سے مستنبط اور مستخرج کرنا فقہ کا نہایت اہم کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات میں پیش آنے والے نئے مسائل کے شرعی حل کے لیے قرآن وسنت کے اصولوں کی روشنی میں غور وفکر اور صحیح استنباط ضروری ہے۔ یہی کام فقہی اجتماعات میں انجام دیا جاتا ہے۔

صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے تاثراتی خطاب میں اعانت علی المعاصی کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم اور وسیع موضوع ہے اور اس کی بعض صورتیں ممانعت اور معاونت معصیت کے مختلف درجات سے متعلق ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کا ایک حصہ قطعی اور غیر متبدل ہے جبکہ بعض جدید پیش آمدہ مسائل ایسے ہیں جن کے حل کے لیے شریعت کے اصولوں کی روشنی میں غور وفکر اور دلائل کی بنیاد پر استنباط کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید مسائل میں ایسے شرعی حل پیش کیے جانے چاہئیں جو امت کے لیے قابل عمل ہوں۔

صدر مجلس اور دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ فقہی مباحث اور جدید مسائل کے شرعی احکام اخذ کرنے کا عمل عہد نبوی ﷺ سے جاری ہے۔ امت کے علمی سفر میں نئے پیش آمدہ مسائل پر غور وفکر اور ان کے شرعی حل کی تلاش ایک مسلسل علمی روایت رہی ہے۔ فقہی اجتماعات اسی علمی روایت کا تسلسل ہیں جو قرن اول سے آج تک جاری ہے۔

افتتاحی نشست کا آغاز قاری محمد فاروق کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ قاری احمد عبداللہ قاسمی رسول پوری نے نعتیہ کلام پیش کیا۔

اجتماع میں دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن حضرت مولانا رحمت اللہ میر قاسمی۔ حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند اور استاذ دارالعلوم دیوبند۔ حضرت مولانا محمد حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند۔ حضرت مفتی زین الاسلام الہ آبادی صدر مفتی دارالعلوم دیوبند۔ حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ۔ حضرت مولانا عتیق احمد بستوی استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ۔ نائب امیر الہند حضرت مفتی محمد سلمان منصورپوری استاذ دارالعلوم دیوبند۔ حضرت مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند۔ حضرت مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء یوپی۔ حضرت مفتی عبداللہ معروفی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند سمیت ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد ارباب فقہ وفتاویٰ شریک ہیں۔

ادارۃ المباحث الفقہیہ کے کنوینر مولانا عبدالملک رسول پوری نے بتایا کہ اکیسویں فقہی اجتماع میں طب اور بعض جدید فقہی مسائل اور اعانت علی المعاصی اور جدید معاشی معاملات کے موضوعات پر تفصیلی علمی بحث ومباحثہ ہوگا۔ اجتماع کے دوران مختلف جدید مسائل کے شرعی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور ماہرین و فقہاء کی آراء کی روشنی میں ان کے حل پر غور کیا جائے گا۔