مولانا سعید الرحمٰن اعظمی کے انتقال پر سری سری روی شنکر کی تعزیت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-10-2026
مولانا سعید الرحمٰن اعظمی کے انتقال پر سری سری روی شنکر کی تعزیت
مولانا سعید الرحمٰن اعظمی کے انتقال پر سری سری روی شنکر کی تعزیت

 



نئی دہلی: مذہبی رہنما سری سری روی شنکر نے ندوۃ العلما، لکھنو کے مہتمم مولانا سعید الرحمٰن اعظمی کے انتقال پر تعزیت کی ہے۔ روی شنکر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ہم سب ایک ہی نور سے آئے ہیں اور آخر میں اسی میں لوٹ جاتے ہیں۔لیکن پیدائش اور موت جسم کے ہیں، روح کے نہیں۔ جسم پنچ مہابھوتوں میں مل جاتا ہے، لیکن روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے،وہ ابدی اور لافانی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی نے اپنے علم اور جذبہ خدمت سے ہزاروں زندگیوں کو مالامال کیا۔

ان کی وراثت ان دلوں اور زندگیوں میں محفوظ ہے، جنہیں انہوں نے چھوا، سنوارا اور سمت دی۔ ان کا علم، ان کے آدرش اور خدمت کے لیے ان کی لگن آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ یہی ان کے لیے سچی خراج عقیدت ہوگی۔ان کے اہل خانہ کو صبر اور حوصلہ ملے۔ میری محبت اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔اوم شانتی، شانتی، شانتی۔ واضح ہوکہ مولانا اعظمی ایک معروف عالم دین تھے۔

مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی ہندوستان کے ممتاز عالمِ دین اور اسلامی علوم کے معروف استاد تھے۔ وہ لکھنؤ کے مشہور دینی ادارے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظمِ تعلیمات کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی دینی تعلیم، علمی تحقیق اور نئی نسل کی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

مولانا اعظمی ندوی کا شمار ان اہلِ علم میں ہوتا تھا جنہوں نے درس و تدریس کے ذریعے دینی علوم کی روایت کو آگے بڑھایا۔ ندوۃ العلماء جیسے اہم علمی ادارے سے ان کی وابستگی نے انہیں ملک اور بیرونِ ملک کے علمی حلقوں میں شناخت عطا کی۔ ان کی شخصیت علم، سادگی اور تدریسی خدمات کے حوالے سے قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ ان کے انتقال سے ہندوستان کے علمی و دینی حلقوں میں ایک خلا پیدا ہوا ہے۔ ان کی زندگی اور خدمات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ تعلیمی اداروں کی اصل طاقت ایسے اساتذہ اور اہلِ علم ہوتے ہیں جو خاموشی اور مستقل مزاجی کے ساتھ نسلوں کی فکری و علمی تربیت کرتے ہیں۔