جنیوا: ورلڈ سندھی کانگریس نے سندھ کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا جس میں اسکالرز۔ محققین۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سندھ سے متعلق سیاسی۔ سماجی۔ اقتصادی۔ ماحولیاتی اور انسانی حقوق کے مسائل پر گفتگو کی۔کانفرنس کا موضوع تھا ’’سندھ دوراہے پر۔ علاقائی سالمیت۔ انسانی حقوق۔ ماحولیاتی انصاف اور حق خود ارادیت کا دفاع‘‘۔ مقررین نے شہری اور سیاسی حقوق۔ جمہوری شرکت۔ مبینہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں۔ اقلیتی حقوق۔ پانی کی قلت۔ ماحولیاتی آلودگی۔ وسائل کی تقسیم۔ ثقافتی شناخت اور سندھ کی علاقائی سالمیت سے متعلق خدشات پر بات کی۔
انسانی حقوق کے ماہر ڈاکٹر جوزف چونگسی نے حق خود ارادیت کے اصول اور سیاسی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ورلڈ سندھی کانگریس کے نمائندے رؤف لغاری نے دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم اور سندھ پر اس کے مبینہ اثرات کا ذکر کیا۔ ان میں پانی کی قلت۔ زرعی زمینوں میں سمندری پانی داخل ہونا اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی بگڑتی صورتحال شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سمندری پانی کی دراندازی سے تقریباً 1.2 ملین ایکڑ زرخیز زمین متاثر ہوئی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن عارف اعجاز کیا نے سندھ کی تقسیم کی تجاویز کی مخالفت کی۔ انہوں نے نیشنل فنانس کمیشن کے وسائل کی تقسیم پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آبادی کے ساتھ صوبوں کی وسائل پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔دیگر مقررین نے بھی انسانی حقوق اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا۔ خلیل الرحمن نے سندھ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ جبکہ وائس آف مسنگ پرسنز سندھ کے سارنگ سندھی نے جبری گمشدگیوں۔ لاپتہ افراد اور مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں سے متعلق الزامات اٹھائے۔
ورلڈ سندھی کانگریس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن حفیظان واڈھیو نے سندھ کی علاقائی اور ثقافتی سالمیت کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر ہدایت بھٹو نے مذہبی اقلیتوں۔ بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق مسائل پر گفتگو کی۔ڈاکٹر نسیم بلوچ نے سندھ اور بلوچستان کے تاریخی اور ثقافتی روابط کا ذکر کیا۔ جبکہ محقق ڈاکٹر شگفتہ گل نے خواتین اور بچوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی جن میں صنفی بنیاد پر تشدد اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی شامل ہیں۔
کانفرنس سے کلیدی خطاب میں ورلڈ سندھی کانگریس کے چیئرپرسن ڈاکٹر لاکھو لوہانہ نے پاکستان کے قیام اور اس کے سندھ پر مبینہ اثرات کے حوالے سے تنظیم کا تاریخی نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے سندھ کی ثقافت۔ زبان۔ شناخت اور علاقائی سالمیت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سندھ کے قدرتی وسائل کے مبینہ استحصال کا بھی ذکر کیا اور ان کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
کانفرنس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے اداروں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں۔ پالیسی سازوں۔ محققین اور سول سوسائٹی سے سندھ سے متعلق مسائل پر زیادہ توجہ دینے کی اپیل کی گئی۔ ورلڈ سندھی کانگریس نے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانچ۔ جمہوری اور اقلیتی حقوق کے تحفظ۔ وسائل کے شفاف انتظام اور پانی و ماحولیات سے متعلق مسائل پر فوری اقدامات پر زور دیا۔منتظمین نے ان مسائل کو پرامن اور جمہوری طریقوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں انصاف۔ جواب دہی۔ ماحولیاتی تحفظ۔ جمہوریت اور حق خود ارادیت پر زور دیا گیا۔