ناگپور (مہاراشٹر): کاروباری شخص شیو شرما کے قتل کے معاملے میں اہم مشتبہ ملزمہ شردھا دوبے کو بدھ کے روز ناگپور کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔ اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس (یو پی ایس ٹی ایف) اور لکھنؤ پولیس نے منگل کو مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شردھا دوبے، اس کی بہن رشمی دوبے اور ڈرائیور دانش کو گرفتار کیا۔ یہ تینوں ملزم فرار تھے اور ان میں سے ہر ایک پر 50 ہزار روپے کا انعام مقرر تھا۔
پولیس نے کئی مقامات پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارنے کے بعد انہیں گرفتار کیا۔ مقتول کی والدہ رنجنا شرما کی تحریری شکایت پر 9 اکتوبر کو حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 103(1) کے تحت قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لکھنؤ پولیس نے ابتدا میں ملزمین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 25 ہزار روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دیا گیا۔ ملزمین کی گرفتاری کے لیے سرویلانس یونٹ، اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) اور مقامی پولیس سمیت کئی خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں۔ گرفتار افراد کو ضروری قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے لیے لکھنؤ لے جایا جا رہا ہے۔
شیو کی والدہ نے معاملے میں جلد انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس واقعے سے متعلق اپنے پاس موجود تمام چیزیں پولیس کے حوالے کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شردھا دوبے کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ سامنے آئے اور پولیس کے سامنے اپنا موقف پیش کرے۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے وقت کو یاد کرتے ہوئے رنجنا شرما نے بتایا، ’’شردھا کی بہن نے فون کرکے کہا کہ شیو بالکنی سے گر گیا ہے اور وہ اسے رام منوہر لوہیا اسپتال لے جا رہے ہیں۔ لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو کوئی موجود نہیں تھا۔ ہم نے استقبالیہ پر معلوم کیا، لیکن وہاں شیو کے داخل ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ جب ہم نے اس کی بہن کو دوبارہ فون کیا تو اس نے ڈرائیور کا رابطہ نمبر دیا۔‘
‘ انہوں نے مزید بتایا، ’’ڈرائیور سے بات کرنے پر اس نے کہا کہ وہ میڈیکل کالج کے ایمرجنسی وارڈ میں ہیں۔ جب میں اکیلی وہاں پہنچی تو میں نے ایک ایمبولینس کھڑی دیکھی، جس کے پاس اس کا ڈرائیور اور ان کا ڈرائیور دانش موجود تھا۔ میں نے دانش سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے، لیکن اس نے صرف اتنا کہا کہ میں تو محض ایک نوکر ہوں، مجھے کچھ نہیں معلوم، اور پھر وہ وہاں سے بھاگ گیا۔‘‘ رنجنا نے کہا کہ شیو کسی ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کا شکار نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں جلد از جلد گرفتاریاں کی جائیں اور انہیں انصاف ملے۔ اس سے پہلے شردھا دوبے نے دعویٰ کیا تھا کہ شیو نے خودکشی کی ہے اور اس عمارت کی سی سی ٹی وی فوٹیج اس کی بے گناہی ثابت کر دے گی۔
اس نے کہا تھا، ’’میں اس شخص، شیو شرما کو صرف چار ماہ سے جانتی ہوں۔ ان میں سے تقریباً دو سے ڈھائی ماہ تک ہماری دوستی رہی۔ وہ کبھی میرے گھر نہیں آیا تھا۔ گزشتہ دو ماہ سے ہی اس کا میرے گھر آنا جانا شروع ہوا تھا۔ اتنے کم وقت میں حالات اس حد تک خراب نہیں ہو سکتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف اس طرح کے ارادے پالنے لگتے۔ اس کی والدہ نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے ہیں، کیونکہ وہ مجھے کبھی پسند نہیں کرتی تھیں۔‘‘