اجین: مدھیہ پردیش کے اجین میں شاہی مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کا کام سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان دوبارہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ ضلع کلکٹر روشن کمار سنگھ نے منگل کو کہا کہ مسجد کے مقام پر مکمل طور پر امن و امان قائم ہے اور شاہی مسجد کمیٹی کے ارکان سڑک کی توسیع کے منصوبے سے متاثر ہونے والے حصے کو خود ہٹا رہے ہیں۔روشن کمار سنگھ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موقع پر مکمل سکون ہے۔ شاہی مسجد کمیٹی کے ارکان سڑک کی توسیع کے منصوبے سے متاثر ہونے والے حصے کو خود ہٹا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کچھ افراد نے ناخوشگوار صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جا رہی ہے۔
مسجد کے اطراف لوہے کا ڈھانچہ نصب کیا گیا ہے جبکہ حفاظتی انتظامات مزید سخت کرتے ہوئے پولیس نے علاقے میں گھڑ سوار دستے کے ساتھ گشت بھی کیا۔ شاہی مسجد کے آس پاس موجود دکانوں کو پہلے ہی پولیس کی نگرانی میں خالی کرا لیا گیا تھا۔شاہی مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کا کام پیر کو پیش آنے والے ہنگامے کے ایک روز بعد دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ پیر کو مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے لیے ہٹانے کے دوران پتھراؤ کے واقعات کے بعد پولیس اور موقع پر موجود ہجوم کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا تھا۔ علاقے میں ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔
پیر کو سڑک کی توسیع کے مقام پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے۔ یہ کام سنگھستھ کمبھ کی تیاریوں کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اجین میں 2500 سے زیادہ پولیس اہلکار اور افسران تعینات کیے گئے تھے جبکہ پولیس سپرنٹنڈنٹ پردیپ شرما بھی موقع پر موجود رہے۔ شہر بھر میں بھی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ضلع کلکٹر نے اس سے قبل کہا تھا کہ کشتریہ چوک میں واقع شاہی مسجد کا وہ حصہ جو سڑک کی توسیع کے دائرے میں آ رہا ہے اسے مسجد سے وابستہ کمیونٹی اور مذہبی تنظیم کے ارکان رضاکارانہ طور پر ہٹا رہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے افواہوں اور گمراہ کن اطلاعات پر توجہ نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ سڑک کی توسیع کے منصوبے میں افراد اور مذہبی و سماجی برادریوں کا رضاکارانہ تعاون مثبت پہلو ہے۔
ہائی کورٹ میں فریقین کے درمیان سمجھوتہ
دریں اثنا مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے شاہی مسجد سے متعلق جاری تنازع پر دائر درخواست کو فریقین کے درمیان سمجھوتہ ہونے کے بعد نمٹا دیا ہے۔شاہی مسجد کمیٹی کے وکیل کلدیپ پاٹھک نے میڈیا کو عدالتی حکم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جسٹس سُبھودھ ابھینکر اور جسٹس جے کمار پلئی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سنگل بنچ کے سابقہ حکم کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سنگل بنچ نے کمیٹی کی درخواست خارج کر دی تھی جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی اور آج اس پر سماعت ہوئی۔وکیل کے مطابق انتظامیہ 9.5 فٹ جگہ خالی کرانے کا مطالبہ کر رہی تھی تاہم بات چیت کے بعد کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان سمجھوتہ ہوگیا۔سمجھوتے کے تحت کمیٹی نے مسجد کے تین فٹ حصے کو ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ کلدیپ پاٹھک نے کہا کہ کمیٹی تین فٹ تجاوز شدہ حصے کو ہٹانے کے لیے تیار ہے اور انہدام کا کام پہلے ہی شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انتظامیہ نے ہٹائی جانے والی دکانوں کے لیے متبادل انتظامات کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس میں اضافی تعمیراتی تناسب کی سہولت معاوضے کے مقررہ حصولیابی ضوابط کے مطابق ادائیگی اور مسجد کے احاطے میں مینار کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا شامل ہے۔ہائی کورٹ نے دونوں فریقوں کو ہدایت دی ہے کہ سمجھوتے کی شرائط اور عدالت میں جمع کرائے گئے حلف ناموں پر سختی سے عمل کیا جائے۔