اندور: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے اجین میں 2028 میں ہونے والے سنگھستھ کمبھ میلے کی تیاریوں کے تحت سڑک چوڑی کرنے کے لیے تاریخی شاہی مسجد کے راستے میں آنے والے حصوں کو ہٹانے کے معاملے میں مسلم فریق کی جانب سے دائر دو رِٹ اپیلوں کو پیر کو نمٹا دیا۔ جسٹس سُبودھ ابھیَنکر اور جسٹس جے کمار پلئی کی بنچ نے یہ کارروائی اس وقت کی جب عرضی گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ مسجد کے راستے میں آنے والے حصوں کو ہٹانے کے معاملے پر ان کا اجین میونسپل کارپوریشن کے ساتھ سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ تمام متعلقہ فریقوں کو سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ اپیل کنندگان نے اسے بتایا ہے کہ ان کا اجین میونسپل کارپوریشن کے ساتھ معاملہ طے ہوگیا ہے اور اسی سمجھوتے کی روشنی میں رِٹ اپیلوں کو نمٹایا جاتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ شاہی مسجد معاملے میں اجین میونسپل کارپوریشن نے اپنے جواب اور عبوری نوٹس میں جو یقین دہانیاں کرائی ہیں، وہ میونسپل کارپوریشن کے لیے پابند ہوں گی۔ سماعت کے دوران اجین میونسپل کارپوریشن کے ایک وکیل نے ’سمجھوتہ‘ لفظ کے استعمال سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ اپیل کنندگان اتوار کو مسجد کے راستے میں آنے والی تعمیرات کو خود ہٹانے پر رضامند ہوگئے تھے اور انہوں نے پیر کی صبح سے ان تعمیرات کو ہٹانا شروع کردیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ ان حالات میں مسلم فریق کی جانب سے رِٹ اپیل کے ذریعے دائر مقدمات اب قابل سماعت نہیں رہ گئے ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اجین میں سنگھستھ کمبھ میلے سے قبل سڑک چوڑی کرنے کے لیے 80 سے زیادہ مذہبی مقامات کو ہٹانے کا عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اور ان میں زیادہ تر مندر ہیں۔ وکیل نے کہا، ’’سڑک چوڑی کرنے کے کام سے شاہی مسجد کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ متاثر ہورہا ہے۔‘‘ انہوں نے ہائی کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ اجین کے شہر قاضی نے معاملہ طے ہونے کے بارے میں میڈیا کو بیان جاری کیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اپنے دعووں کی حمایت میں عدالت میں کچھ ویڈیوز بھی پیش کی گئیں، جنہیں عدالت نے سماعت کے دوران دیکھا۔
سماعت کے بعد مسلم فریق کے ایک اپیل کنندہ کے وکیل کلدیپ پاٹھک نے پی ٹی آئی-بھاشا کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے اجین میونسپل کارپوریشن اور شاہی مسجد کے انتظام سے وابستہ ایک کمیٹی کے درمیان ہوئے سمجھوتے کی بنیاد پر مسلم فریق کی رِٹ اپیلیں نمٹا دی ہیں اور دونوں فریقوں کو سمجھوتے کی شرائط پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پاٹھک نے دعویٰ کیا کہ اجین انتظامیہ نے سڑک چوڑی کرنے کے لیے شاہی مسجد کا تقریباً ساڑھے 9 فٹ حصہ ہٹانے کو کہا تھا، لیکن سمجھوتے کے تحت تقریباً 3 فٹ حصہ ہٹانے پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسجد کے مینار والے حصے کو عمارت میں دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا، جبکہ میونسپل کارپوریشن نے مسجد کے احاطے کی نچلی منزل پر بنی دکانوں کے بدلے دوسری جگہ دکانیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ شاہی مسجد کے تقریباً 100 سال پرانی ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ریاست کی مذہبی اہمیت رکھنے والے شہر اجین کی تاریخی مسجد پیر کو تنازع کا مرکز بن گئی تھی۔ مسجد کے ایک حصے کو منہدم کیے جانے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے دوران کچھ لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا۔ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے اور ہلکا طاقت کا استعمال کیا تھا۔