وڈ نگر: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ منتخب نمائندے کی حیثیت سے وزیر اعظم نریندر مودی کی زندگی کے 25 سال کو غریبوں کی فلاح اور ہندوستان کی خوشحالی کی بنیاد رکھنے والے دور کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ گجرات کے وڈ نگر میں ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کا افتتاح کرنے اور وارانسی کے لیے موٹر سائیکل ریلی کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ منتخب نمائندے کے طور پر مودی کی زندگی کے 25 سال ’’تاریخ میں غریبوں کی فلاح کے سال کے طور پر سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے۔‘‘
اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے بھی موجود تھے۔ 17 ستمبر 1950 کو گجرات کے ضلع مہسانہ کے وڈ نگر میں پیدا ہونے والے مودی جمعرات کو 76 سال کے ہو گئے۔ منتخب نمائندے کے طور پر ان کے 25 سال 7 اکتوبر کو مکمل ہوں گے۔ انہوں نے 2001 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا تھا اور 2014 میں وزیر اعظم بنے۔ شاہ نے کہا کہ مودی کی قیادت میں اس دور نے ہندوستان کی خوشحالی کی بنیاد رکھی، ملک کو زیادہ محفوظ بنایا اور بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ہندوستان کو عالمی سطح پر آگے لے جانے کا عمل شروع کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 25 کروڑ افراد کو غربت سے باہر نکالا گیا ہے۔ ان کے مطابق کئی نسلوں سے لوگ مکان، بیت الخلا، نل سے پانی، بجلی، راشن اور علاج جیسی بنیادی سہولتوں کا انتظار کر رہے تھے۔ شاہ نے مودی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں میں مکان، بجلی، نل سے پانی، فی فرد ہر ماہ پانچ کلو مفت اناج، پانچ لاکھ روپے تک کا صحت بیمہ، بیت الخلا اور گیس سلنڈر کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے طور پر مودی کا 12 سالہ دور ملک کے 80 کروڑ غریبوں کے لیے سنہری دور کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ غریب خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے مودی نے خود غربت کا سامنا کیا اور اپنے حالات کے باوجود ملک کے سامنے مساوی اور جامع ترقی کا نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق منتخب نمائندے کے طور پر مودی کی 25 سالہ زندگی غریبوں، پسماندہ طبقات، دلتوں اور قبائلیوں کے لیے مسلسل ذاتی کوشش اور خدمت کی علامت رہی ہے۔ شاہ نے کہا کہ انہوں نے گجرات میں تنظیمی ذمہ داریوں کے دوران اور بعد میں مودی کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بننے کے بعد بھی ان کے ساتھ کام کیا ہے۔
انہوں نے مودی کی سادگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک بھر کے بی جے پی کارکنوں کو ’راشٹر پرتھم‘ یعنی ’ملک سب سے پہلے‘ کے نعرے سے جوڑا اور پورے ملک کو اپنا خاندان سمجھا۔ شاہ نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر مودی کے دور کا ذکر کرتے ہوئے آبی انتظام، ون بندھو کلیان یوجنا، ساگر کھیڑو کلیان یوجنا، صنعتی ترقی، وائبرنٹ گجرات، تعلیمی مراکز اور گاؤں میں 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی سمیت مختلف اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد گجرات ماڈل کو قومی سطح پر لے جایا گیا۔ انہوں نے سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی توسیع کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملک میں ہوائی اڈوں کی تعداد 75 سے بڑھ کر 150 ہو گئی ہے۔
شاہ نے پی ایم گتی شکتی، ڈیجیٹل انڈیا اور اسٹارٹ اپ انڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ قومی سلامتی کے حوالے سے شاہ نے آرٹیکل 370، شہریت ترمیمی قانون، بھارتیہ نیائے سنہتا، شمال مشرق میں امن معاہدوں اور فوجی کارروائیوں سے متعلق حکومت کے فیصلوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے خواتین، قبائلی بہبود، دفاعی پیداوار اور چندریان و آدتیہ ایل-1 سمیت خلائی پروگراموں سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
شاہ نے کہا کہ منتخب نمائندے کے طور پر مودی کی زندگی کو دو الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: ’بھارت پرتھم‘ یعنی ’ہندوستان سب سے پہلے‘۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کہا کہ وڈ نگر سے وارانسی تک موٹر سائیکل ریلی محض ایک سفر نہیں بلکہ ’’ملک کی خدمت کے لیے وقف ایک عزم کا مشن‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وڈ نگر کی مٹی نے مودی کو حب الوطنی، سادگی اور خدمت کے جذبے سے متاثر کیا ہے۔ وزیر اعظم کے پارلیمانی حلقے وارانسی سے بھی اسی وقت ریلی کو ہری جھنڈی دکھائی گئی۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق دونوں ریلیاں 7 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوں گی۔ بی جے پی کے مطابق دونوں ریلیاں 10 ریاستوں کے 193 اضلاع اور تقریباً 1,159 گاؤں سے گزریں گی اور تقریباً 40 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گی۔ ان میں تقریباً ایک ہزار نوجوان حصہ لیں گے۔ وڈ نگر میں شاہ، بھوپیندر پٹیل اور دیگر رہنماؤں نے سب سے پہلے شرمشتھا جھیل پر ’مہاآرتی‘ کی اور اس کے بعد قدیم ہٹکیشور مندر تک پیدل گئے۔