نئی دہلی: ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن (ڈبلیو ایف آئی) کے سابق سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کو جنسی ہراسانی کے معاملے میں بری کیے جانے کے مجسٹریٹ عدالت کے فیصلے کے خلاف چار خاتون پہلوانوں نے جمعہ کو سیشن عدالت سے رجوع کیا۔ درخواست میں ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو مجرمانہ دھمکی کے الزام سے بری کیے جانے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
مجسٹریٹ عدالت نے 3 اگست کو عالمی چیمپئن شپ کی میڈل یافتہ وینیش پھوگاٹ سمیت چھ خاتون پہلوانوں کی جانب سے دائر مقدمے میں ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ اور ڈبلیو ایف آئی کے سابق سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کو بری کر دیا تھا۔ عدالت نے سنگھ کے ساتھ ونود تومر کو بھی بری کیا تھا۔ جمعہ کو سیشن عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بری کیے جانے کا فیصلہ ’’غلط اور قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں‘‘ ہے۔
اس معاملے کی سماعت ہفتہ کو خصوصی جج دگ وجے سنگھ کے ذریعے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل مجسٹریٹ عدالت کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ شکایت کرنے والی پانچ پہلوانوں میں سے دو نے بتایا تھا کہ انہیں سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے کے لیے ’’مجبور کیا گیا یا ان پر دباؤ ڈالا گیا‘‘ تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ان کے بیانات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ الزام سیاسی مقصد کے تحت لگایا گیا تھا اور ایک گہری سازش کے تحت اسے ’’جھوٹا اور من گھڑت‘‘ طریقے سے ’’اجتماعی طور پر‘‘ تیار کیا گیا تھا۔
عدالت نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا تھا کہ شکایت کنندگان نے مبینہ طور پر پیش آنے والے پہلے واقعے کے بارے میں ’’غلط ملک اور سال‘‘ کا ذکر کیوں کیا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ’’یہ تضاد استغاثہ کے مقدمے کو کمزور کرتا ہے‘‘، کیونکہ ’’جس جگہ جنسی ہراسانی کا واقعہ پیش آیا، اسے یاد نہ رکھ پانا کوئی معمول کی بات نہیں بلکہ غیر معمولی بات ہے۔‘‘ مجسٹریٹ عدالت کے 239 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا تھا کہ شکایت کرنے والی پہلوانوں کو خدشہ تھا کہ معاملہ سامنے آنے سے ان کے کیریئر پر اثر پڑ سکتا ہے، اس لیے انہوں نے بروقت ملزم کے خلاف کوئی الزام نہیں لگایا۔
تاہم عدالت نے کہا تھا کہ یہ بات ’’سمجھ سے باہر‘‘ ہے کہ انہوں نے کئی برس تک سنگھ کے ساتھ ’’خوشگوار تعلقات‘‘ کیسے برقرار رکھے اور ’’متاثرہ خواتین نے انہیں خاندانی اور شادی کی تقریبات میں کیوں مدعو کیا۔‘‘ مجسٹریٹ عدالت نے برج بھوشن شرن سنگھ کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 354، 354 اے اور 506(1) کے تحت تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ دفعہ 354 کا تعلق کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کے ارادے سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کے استعمال، دفعہ 354 اے کا جنسی ہراسانی اور دفعہ 506(1) کا مجرمانہ دھمکی سے ہے۔ ونود تومر کو آئی پی سی کی دفعہ 506(1) کے تحت بری کیا گیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جن دو پہلوانوں کو متاثرہ بتایا گیا تھا، وہ دونوں عدالت میں پیش ہوئیں اور بعد میں انہوں نے واضح طور پر تسلیم کیا تھا کہ ان کے ساتھ جنسی ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔