کلکتہ گرلس کالج میں سیمینار :اردو ادب اور ہندی فلموں کا رشتہ نہایت قدیم اور گہرا ہے- ڈاکٹر ستیہ اپادھیائے:
کولکاتا:ہماری طالبات میں وہ صلاحیتیں موجود ہیں جن کی نئی نسل کو ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کا مقصد صرف نصابی تعلیم فراہم کرنا نہیں، بلکہ طالبات میں تحقیق، تخلیقی صلاحیت، تنقیدی شعور اور خود اعتمادی پیدا کرنا بھی ہے۔
ان خیالات کا اظہار کلکتہ گرلس کالج کی پرنسپل ڈاکٹر ستیہ اپادھیائے نے شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ’اردو ادب اور ہندی فلمیں‘ کے موضوع پر منعقدہ اس سیمینار میں سمسٹر اول کی طالبات نے مختلف فلموں، ادبی تخلیقات اور فلمی نغمہ نگاری پر تحقیقی مقالے پیش کیے۔
کالج کے ہال میں منعقدہ اس سیمینار کا مقصد طالبات کو اردو ادب اور ہندوستانی سنیما کے باہمی تعلق، فلمی ادب، اردو زبان و تہذیب کے فروغ میں فلموں کے کردار اور ادبی تخلیقات کی فلمی تشکیل سے روشناس کرانا تھا۔
پروگرام کا آغاز شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر محمد امتیاز احمد کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے مہمانوں، اساتذہ اور طالبات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب اور ہندوستانی فلموں کا رشتہ نہایت قدیم اور گہرا ہے۔ ہندوستانی سنیما نے اردو زبان، شاعری، مکالموں اور تہذیبی اقدار کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے طالبات کی علمی و ادبی سرگرمیوں اور تحقیقی کاوشوں کو بھی سراہا۔
پرنسپل ڈاکٹر ستیہ اپادھیائے نے سیمینار کے انعقاد پر شعبۂ اردو کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے طالبات کو ادب اور فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں کا مطالعہ کرنے اور اپنے علمی دائرے کو وسیع کرنے کی ترغیب دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طالبات میں تحقیق، تنقیدی فکر اور اظہارِ خیال کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
سیمینار میں شعبۂ تاریخ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نندنی بھٹاچاریہ نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ انہوں نے اردو ادب اور ہندوستانی فلموں کے تعلق کو تاریخی اور سماجی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فلمیں محض تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ معاشرے، تاریخ، تہذیب اور عوامی زندگی کی عکاسی کا ایک اہم وسیلہ بھی ہیں۔ فلموں کے ذریعے زبان، ثقافت اور معاشرتی اقدار کو وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔
شعبۂ انگریزی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سپرنا بھٹاچاریہ نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ انہوں نے اردو ادب اور سنیما کے درمیان موجود تخلیقی رشتے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور طالبات کی تحقیقی کاوشوں کی تعریف کی۔ ان کے مطابق اس طرح کے علمی پروگرام طالبات میں مطالعے، تحقیق اور تنقیدی فکر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سیمینار کی صدارت شعبۂ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نعیم انیس نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ اردو ادب اور ہندوستانی فلمیں اگرچہ الگ الگ اصناف ہیں، لیکن کئی سطحوں پر ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ اردو شاعری، افسانے، ناول، مکالمہ نگاری اور گیت نگاری نے ہندوستانی سنیما کو زبان و بیان کی خوب صورتی عطا کی، جب کہ فلموں نے اردو کے ادبی اور تہذیبی عناصر کو عوامی سطح پر مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے طالبات کے پیش کردہ مقالات کو سراہتے ہوئے انہیں مزید مطالعے اور تحقیق کی ترغیب دی۔
سیمینار کی نظامت ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔ انہوں نے مقررین اور مقالہ پیش کرنے والی طالبات کا تعارف کرایا اور پروگرام کے مختلف مراحل کو منظم انداز میں آگے بڑھایا۔سیمینار کا اہم حصہ سمسٹر اول کی طالبات کی جانب سے تحقیقی مقالوں کی پیش کش تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان طالبات نے 7 جولائی کو کالج میں داخلہ لیا تھا اور محض تین ماہ کے عرصے میں اپنی دلچسپی، لگن اور محنت سے تحقیقی مقالے تیار کیے۔ ان کی یہ علمی کاوش قابلِ تحسین رہی۔
مقالہ خوانی سے قبل محترمہ جیوتا سنگھ نے اپنی مترنم آواز میں ایک غزل پیش کی، جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔
مقالہ پیش کرنے والی طالبات میں اقصیٰ اقبال نے ’مغلِ اعظم: ایک لازوال فلم‘، منتشا اسلام نے ’امراؤ جان: ایک تہذیبی فلم‘، صائبہ مسرت نے ’پنجاب کی دیہی زندگی کی عکاس: ایک چادر میلی سی‘ اور صالحہ خاتون نے ’فلم شعلے کی مقبولیت کے اسباب‘ کے موضوع پر اپنے مقالے پیش کیے۔
اسی طرح تنیشا پروین نے فلم ’لگان‘، فاطمہ خاتون نے فلم ’نکاح‘، ثنا خاتون نے فلم ’پاکیزہ‘، عذرا خاتون نے فلم ’دیوداس‘، صدف فردوس نے فلم ’مہندی‘ اور زینت پروین نے فلم ’محبوب کی مہندی‘ پر مقالے پیش کیے۔
دیگر مقالہ نگاروں میں وریشہ معین نے ’فلم مرزا غالب‘، اقرا خاتون نے ’فلم میرے محبوب‘، ثانیہ پروین نے ’فلم شطرنج کے کھلاڑی‘، زینب خاتون نے ’فلم مدر انڈیا‘، زیبا پروین نے ’مجروح سلطانپوری کی فلمی نغمہ نگاری‘ اور آسیہ خاتون نے ’جاوید اختر کی فلمی نغمہ نگاری‘ کے موضوعات پر اپنے مقالے پیش کیے۔
مقالوں کی پیش کش کے دوران اساتذہ اور دیگر شرکاء نے طالبات کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں موضوعات کے حوالے سے مفید مشورے دیے۔ اس علمی سرگرمی کے ذریعے طالبات کو نہ صرف اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع ملا، بلکہ تحقیقی مقالہ نویسی، علمی گفتگو اور سامعین کے سامنے اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کرنے کی عملی تربیت بھی حاصل ہوئی۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ومیق الارشاد علی القادری نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور تمام مہمانوں، اساتذہ، طالبات اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شعبۂ اردو کی اساتذہ محترمہ شیریں ظفر اور ممتاز آرا کے علاوہ دیگر سمسٹروں کی طالبات، مختلف شعبوں کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے افراد بھی موجود تھے۔ ان سب کی شرکت اور تعاون نے سیمینار کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔