نئی دہلی: اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے جمعہ کو راشٹرپتی بھون کی جانب مارچ کے اعلان کے پیش نظر دہلی پولیس نے قومی دارالحکومت میں سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ اتحاد کا مطالبہ ہے کہ صدر دروپدی مرمو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے معاملے میں مداخلت کریں۔
ذرائع کے مطابق، وسطی دہلی میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 20 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس دوران ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے بھی ہفتے کے روز گیانیش کمار کے خلاف ایک اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارلیمنٹ، کناٹ پلیس، جنتر منتر اور دیگر حساس مقامات کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔
پولیس کی ٹیمیں ان ممکنہ مقامات پر کڑی نظر رکھ رہی ہیں جہاں مظاہرین جمع ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ راشٹرپتی بھون کی جانب جانے والے راستوں کی بھی نگرانی کی جارہی ہے۔ اہم سڑکوں پر سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے مرکزی مسلح پولیس فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ مختلف اہم مقامات پر پولیس پکٹس اور بیریکیڈز بھی لگائے گئے ہیں۔
دہلی پولیس نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے سفر کی پہلے سے منصوبہ بندی کریں اور ٹریفک سے متعلق ہدایات پر عمل کریں، کیونکہ وسطی دہلی میں ممکنہ پابندیوں اور راستوں کی تبدیلی کے باعث آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے۔