سپریم کورٹ نے ہندی کو عدالتی کارروائی کی سرکاری زبان بنانے کی درخواست خارج کردی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
سپریم کورٹ نے ہندی کو عدالتی کارروائی کی سرکاری زبان بنانے کی درخواست خارج کردی
سپریم کورٹ نے ہندی کو عدالتی کارروائی کی سرکاری زبان بنانے کی درخواست خارج کردی

 



نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس درخواست پر غور کرنے سے انکار کردیا جس میں عدالت کی سرکاری زبان کے طور پر ہندی کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی تھی۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں عدالتی کارروائی کی زبان سے متعلق تبدیلیاں عدالتی احکامات کے ذریعے نہیں کی جاسکتیں۔ اس کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت بتدریج اقدامات کرنا ہوں گے۔

سپریم کورٹ ایک ایسی عرضی کی سماعت کر رہی تھی جس میں مرکز کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی کہ سپریم کورٹ میں ہندی کے استعمال سے متعلق سفارشات پیش کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ عدالت زبان سے متعلق اقدامات پہلے ہی بتدریج نافذ کر رہی ہے۔ اس میں اپنے فیصلوں اور رپورٹس کا مختصر تعارف ہندی میں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے اقدامات دیگر علاقائی زبانوں کے لیے بھی کیے جائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت تمام رپورٹس کا مختصر تعارف ہندی میں فراہم کر رہی ہے اور اب دیگر علاقائی زبانوں میں بھی یہ سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت ملک کی ثقافت کو برقرار رکھے گی اور دیگر علاقائی زبانوں کا بھی احترام کرے گی۔بنچ نے واضح کیا کہ اس طرح کی تبدیلیاں عدالتی احکامات کے ذریعے نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت مرحلہ وار نافذ کی جاتی ہیں۔

جب درخواست گزار کے وکیل نے کم از کم کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت جاری کرنے پر زور دیا تو جسٹس وی موہنا نے کہا کہ اس مطالبے کا تعلق مؤثر طور پر آئینی تبدیلی سے ہوگا۔جسٹس موہنا نے سوال کیا کہ اگر مطالبہ آئینی ترمیم سے متعلق ہے تو عدالت ایسا حکم کیسے دے سکتی ہے۔

وکیل نے وضاحت کی کہ فوری طور پر صرف کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ تاہم بنچ نے یہ درخواست بھی منظور کرنے سے انکار کردیا اور عرضی خارج کردی۔آئین کے آرٹیکل 348(1)(a) کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں عدالتی کارروائی انگریزی زبان میں کی جاتی ہے۔ تاہم آئینی نظام کے تحت دیگر زبانوں کے استعمال سے متعلق بھی مخصوص انتظامات موجود ہیں۔