ریاض،:سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اس دوران مغربی ایشیا کی تازہ صورت حال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے اتوار کو مقامی وقت کے مطابق اس بات چیت کی اطلاع دی۔سعودی وزیر خارجہ کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا فون موصول ہوا۔ گفتگو کے دوران خطے میں حالیہ کشیدگی اور اس سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں پر بات ہوئی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی حوثی فورسز کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلا ایسا رابطہ ہے جس کی عوامی سطح پر اطلاع دی گئی ہے۔
یہ سفارتی رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں دشمنی اور فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حوثی فورسز نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان اہداف میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔
اتوار کو اس ہوائی اڈے کو ایک بار پھر نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ملی۔ اس سے قبل ہونے والے ایک حملے میں مبینہ طور پر 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔
اس سے پہلے سعودی حکام نے اطلاع دی تھی کہ ایک نامعلوم پروجیکٹائل ٹرمینل 4 سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔
حوثی فورسز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 24 گھنٹوں کے دوران بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کے خلاف چار کارروائیاں کیں۔ گروپ کے مطابق، ان اہداف میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام کا کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، شوگادام گیس تنصیب اور مشرقی صوبے میں واقع تنجیب آئل ریفائنری شامل تھے۔
حوثیوں نے بین الاقوامی ایئرلائنز، ملازمین اور مسافروں کو سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں چلانے سے گریز کرنے کی تنبیہ بھی کی۔ گروپ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی فضائی حدود کو غیر محفوظ بتایا۔ یہ تمام دعوے حوثی گروپ کی جانب سے کیے گئے ہیں۔
بھارت سمیت کئی ممالک کی مذمت
ان حملوں پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔ متعدد ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے بھی ان حملوں کی سخت مذمت کی۔ وزارت نے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر بار بار کیے جانے والے حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع میں وہاں کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ خطے میں جلد از جلد امن اور معمول کے حالات بحال ہوں گے۔‘‘
ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانہ مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، اس حملے میں 11 بھارتی شہری زخمی ہوئے تھے۔ بعد میں ان میں سے ایک کی موت ہوگئی۔
سفارت خانے نے بتایا کہ تین زخمیوں کو انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا تھا اور ان کی حالت مستحکم تھی، جبکہ دو دیگر زخمی عام وارڈ میں زیر علاج تھے۔ باقی زخمیوں کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی تھی۔
بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھارتی شہری کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
جے شنکر نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’ریاض حملے میں ایک بھارتی شہری کی موت پر مجھے گہرا دکھ ہوا ہے۔ سوگوار خاندان کے ساتھ میری دلی تعزیت ہے۔ سفارت خانہ ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔‘‘
امریکہ اور اقوام متحدہ کا ردعمل
اس حملے پر بین الاقوامی رہنماؤں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں بے گناہ شہریوں کی زندگیوں کے تئیں صریح بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا حوثی باغیوں کے خلاف سعودی حملوں میں امریکہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’ممکن ہے کہ ہم ایسا کریں۔ ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔ ہمیں حالیہ حملے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے۔ ہم فیصلہ کریں گے۔ ہم بہت تیزی سے کارروائی کرتے ہیں۔‘‘
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اس مہلک حملے کی مذمت کی اور زور دیا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں