نئی دہلی: 2025 میں پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات کرنے والے آئی پی ایس افسر سندیپ چودھری کو وزارت داخلہ کی جانب سے سال 2026 کے ’مرکزی وزیر داخلہ دکشتا میڈل‘ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں کشمیر کے بدترین دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک کی اہم تحقیقات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ 2012 بیچ کے اے جی ایم یو ٹی کیڈر کے آئی پی ایس افسر سندیپ چودھری نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام کے بیسران میدان میں ہونے والے حملے کی تحقیقات میں چیف انویسٹی گیٹنگ آفیسر کی ذمہ داری نبھائی تھی۔
اس حملے میں زیادہ تر سیاحوں سمیت 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی تھیں۔ بعد ازاں ایجنسی نے کئی ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جن میں لشکر طیبہ کے کارکن حافظ سعید اور ساجد جٹ کے نام بھی شامل ہیں۔ این آئی اے میں تعیناتی سے پہلے چودھری شوپیاں، اننت ناگ اور سری نگر میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر فائز رہے۔ اس دوران انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کئی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ ان کی خدمات کے ریکارڈ میں جموں و کشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں کردار کے لیے 9 بہادری کے تمغے بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انہیں چیف آف آرمی اسٹاف، شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف، ہندوستانی فضائیہ کی مغربی کمان اور سی آر پی ایف، جموں و کشمیر پولیس، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرلز کی جانب سے تعریفی اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ 2021 میں چودھری کی قیادت میں چلائے گئے ایک آپریشن کے نتیجے میں حزب المجاہدین کے کمانڈر سید نوید مشتاق عرف نوید بابو کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی کارروائی کے دوران اس وقت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیویندر سنگھ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اس اعزاز کا باضابطہ نام ’مرکزی وزیر داخلہ دکشتا میڈل‘ ہے۔
سال 2026 کے لیے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مرکزی مسلح پولیس فورسز اور مرکزی پولیس تنظیموں کے مجموعی طور پر 490 اہلکاروں کو اس میڈل سے نوازا گیا ہے۔ یہ میڈل پولیس اہلکاروں کی غیر معمولی کارکردگی کو تسلیم کرنے، پیشہ ورانہ معیار کو بلند کرنے اور ان کے حوصلے بڑھانے کے مقصد سے دیا جاتا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق، مرکزی وزیر داخلہ دکشتا میڈل کا آغاز یکم فروری 2024 کو کیا گیا تھا۔ یہ پولیس فورسز، سکیورٹی اداروں، مرکزی مسلح پولیس فورسز، نیشنل سکیورٹی گارڈ، آسام رائفلز اور فارنسک سائنس کے ماہرین کو دیا جاتا ہے۔ اس میڈل کے ذریعے آپریشنز میں بہترین کارکردگی، تحقیقات میں غیر معمولی خدمات، نمایاں پیشہ ورانہ صلاحیت، خطرات کے باوجود جرأت مندانہ انٹیلی جنس خدمات اور فارنسک سائنس کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے سرکاری سائنس دانوں کے قابلِ قدر کام کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز ہر سال 31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یومِ پیدائش کے موقع پر اعلان کیا جاتا ہے۔