سنبھل مسجد تنازع: سپریم کورٹ نے سروے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
سنبھل مسجد تنازع: سپریم کورٹ نے سروے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا
سنبھل مسجد تنازع: سپریم کورٹ نے سروے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سنبھل کی شاہی جامع مسجد اور ہری ہر مندر تنازع میں سروے سے متعلق مقامی عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر جمعہ کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ سنبھل جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے دائر دو درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ ان درخواستوں میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 19 مئی 2025 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ نے سروے کرانے کے لیے سول عدالت کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے سنبھل عدالت کے سروے کے حکم کے خلاف مسجد کمیٹی کی درخواست خارج کر دی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ’کورٹ کمشنر‘ مقرر کرنے کا حکم اور مقدمہ، دونوں قابل سماعت ہیں۔ کورٹ کمشنر عدالت کی جانب سے مقرر کیا جانے والا قانونی یا عدالتی افسر ہوتا ہے، جو جج کو معاملے کے حقائق کی جانچ میں مدد کرتا ہے۔ جمعہ کو سماعت کے دوران اتر پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ریاست کسی بھی فریق کے دعوے کے معاملے میں پڑنا نہیں چاہتی۔

قانونی افسر نے کہا، ’’ریاست کی حیثیت سے ہم کسی بھی فریق کے دعوے کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہتے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ریاست کی حیثیت سے ہم سب کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم اور پابند ہیں۔‘‘ انہوں نے عبادت گاہوں سے متعلق قانون، 1991 کی دفعات کا بھی حوالہ دیا۔ یہ قانون کسی بھی عبادت گاہ کی مذہبی حیثیت تبدیل کرنے سے روکتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کسی عبادت گاہ کی مذہبی شناخت وہی برقرار رہے گی جو 15 اگست 1947 کو تھی۔ تاہم ایودھیا میں رام جنم بھومی-بابری مسجد تنازع کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا تھا۔ بنچ نے مسجد کمیٹی کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل حذیفہ احمدی اور بعض ہندو فریقوں کی نمائندگی کرنے والے وکیل وشنو شنکر جین کے دلائل بھی سنے۔

احمدی نے بنچ کو بتایا کہ 1991 کے قانون کی تشریح سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ کی ایک بڑی بنچ کے سامنے زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ نے 12 دسمبر 2024 کو ایک اہم حکم میں ملک کی عدالتوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ مذہبی مقامات، خاص طور پر مساجد اور درگاہوں پر دوبارہ دعویٰ کرنے سے متعلق نئے مقدمات پر غور نہ کریں اور پہلے سے زیر سماعت مقدمات میں بھی اگلے حکم تک کوئی مؤثر عبوری یا حتمی حکم جاری نہ کریں۔ سپریم کورٹ نے 1991 کے قانون کی مختلف دفعات کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا تھا۔

احمدی نے 28 جولائی کو عدالت میں دلیل دی تھی کہ سپریم کورٹ کے دسمبر 2024 کے حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی کورٹ کو اس معاملے میں مزید کارروائی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس سے قبل مسجد کمیٹی نے سول جج کے 19 نومبر 2024 کے اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس میں مغلیہ دور کی مسجد کے سروے کا حکم دیا گیا تھا اور اسی روز سروے بھی کیا گیا تھا۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ 24 نومبر 2024 کو کیا گیا دوسرا سروے غیر قانونی تھا، کیونکہ سول عدالت نے اس کے لیے کبھی کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔ گزشتہ سال 22 اگست کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف مسجد کمیٹی کی درخواست پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا، ’’اس دوران تمام فریقوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ موجودہ صورت حال برقرار رکھیں۔‘‘ سنبھل کی سینئر ڈویژن سول عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ مسجد سنبھل میں ایک مندر کو منہدم کرکے تعمیر کی گئی تھی۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مغل حکمران بابر نے 1526 میں ہری ہر مندر کو منہدم کرکے وہاں یہ مسجد تعمیر کروائی تھی۔ سپریم کورٹ نے 29 نومبر 2024 کو سنبھل کی عدالت کو مسجد اور چندوسی میں اس کے سروے سے متعلق معاملے کی کارروائی روکنے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے اتر پردیش حکومت کو شہر میں امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ہدایت بھی دی تھی۔