میرٹھ،: اتر پردیش کے میرٹھ میں مشہور سَوربھ راجپوت قتل معاملے میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد مجرم قرار دیے گئے ساہل شکلا اور مسکان رستوگی نے مقامی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ جیل انتظامیہ نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ جیل انتظامیہ کے مطابق، سزا سنائے جانے کے بعد دونوں کی پہلی رات بے چینی میں گزری اور انہوں نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔ ان کی حفاظت بڑھا دی گئی ہے، جبکہ باقاعدگی سے طبی معائنے اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے مشاورت کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ ضلع جیل کے سینئر سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وریش راج شرما نے بتایا کہ عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد ساہل اور مسکان جذباتی ہو کر رونے لگے تھے۔
انہیں سمجھانے کے بعد آگے کی قانونی کارروائی کے بارے میں معلومات دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کو قیدی نمبر بھی الاٹ کر دیے گئے ہیں۔ ساہل کا قیدی نمبر 395/2026 اور مسکان کا 396/2026 ہے۔ شرما کے مطابق، دونوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اگلے دو سے تین دن میں وہ جیل انتظامیہ کو بتائیں گے کہ اپیل کسی نجی وکیل کے ذریعے دائر کریں گے یا جیل انتظامیہ کی جانب سے ان کی پیروی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے اہل خانہ یا نجی وکیل اپیل دائر نہیں کرتے تو جیل انتظامیہ 30 دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کرے گی۔
ساہل اور مسکان کی سرکاری وکیل ریکھا جین نے بتایا کہ جیل میں بند قیدیوں کے مقدمات میں قانونی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کی جانب سے مقرر کردہ وکیل پیروی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے فی الحال سزا سنائی ہے اور اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔ جین کے مطابق، ہائی کورٹ میں ایک کمیٹی بھی اس معاملے کا جائزہ لے گی۔ جیل انتظامیہ کے مطابق، ساہل نے کھیتی باڑی اور باغبانی کا کام منتخب کیا ہے، جبکہ مسکان نے سلائی اور کڑھائی کا کام اختیار کیا ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ ڈاکٹروں اور جیلر کو دونوں کے باقاعدہ طبی معائنے اور انہیں مشاورت فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بدھ کی شام اور جمعرات کی صبح دونوں کو مشاورت فراہم کی گئی۔ ان کی حفاظت بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی کیفیت پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساہل کو سزا یافتہ مرد قیدیوں کی بیرک میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مسکان اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ خواتین کی بیرک میں رہ رہی ہے۔ جیل انتظامیہ کے مطابق، قواعد کے تحت بچی چھ سال کی عمر تک اپنی ماں کے ساتھ جیل میں رہ سکتی ہے۔ جیل انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق، مسکان مجرم قرار دیے جانے کے بعد سے اپنی بڑی بیٹی پیہو سے ملنے کی خواہش ظاہر کر رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مسکان نے ایک خط لکھ کر اپنی بیٹی سے رابطہ کرنے کا طریقہ پوچھا تھا۔ اس کے بعد جیل انتظامیہ نے اسے خط لکھنے کی اجازت دے دی، تاہم اس نے اب تک خط حوالے نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب، سَوربھ کی والدہ رینو دیوی نے مسکان کی چھوٹی بیٹی رادھا کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچی سَوربھ کی نہیں بلکہ ساہل کی بیٹی ہے۔ انہوں نے بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ ان کا خاندان عدالت کے فیصلے سے مطمئن ہے۔ تاہم، رینو دیوی نے کہا کہ اگر سَوربھ کی بڑی بیٹی پیہو کے نانا نانی اسے ان کے پاس بھیجنا چاہیں تو ان کا خاندان اسے اپنے ساتھ رکھنے کے لیے تیار ہے۔
جیل انتظامیہ کے مطابق، سزائے موت پانے والے مرد قیدیوں کو آگرہ کی مرکزی جیل اور خواتین قیدیوں کو لکھنؤ کے ناری بندی نکیتن میں منتقل کرنے کا انتظام ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ساہل اور مسکان کی منتقلی میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔ فی الحال جیل انتظامیہ کی توجہ ان کی حفاظت اور اپیل کی قانونی کارروائی پر مرکوز ہے۔