نئی دہلی، : سپریم کورٹ نے 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کی سماعت کرنے والے عدالتی افسر کے خلاف لگائے گئے الزامات پر الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ الزام ہے کہ متعلقہ عدالتی افسر نے این ڈی پی ایس ایکٹ اور ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج بعض مقدمات اپنے پاس منتقل کیے اور ان مقدمات میں ملزمان کو ضمانت دے دی یا بری کر دیا۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا کہ وہ ان الزامات کا جائزہ لیں، ضرورت پڑنے پر مناسب اصلاحی کارروائی کریں اور اپنی رپورٹ سیل بند لفافے میں سپریم کورٹ کو پیش کریں۔
لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کے ایک چشم دید گواہ کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی طبیعت خراب تھی اور وہ اسی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکے، لیکن اس کے باوجود عدالتی افسر نے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔ پرشانت بھوشن نے الزام لگایا کہ عدالتی افسر نے این ڈی پی ایس اور درج فہرست ذات و قبائل پر مظالم کی روک تھام سے متعلق ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج مقدمات اپنے پاس منتقل کر لیے اور ملزمان کو ضمانت دے دی یا انہیں بری کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت عدالتی افسر کو ایسے مقدمات اپنے پاس منتقل کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
بھوشن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کو تبدیل کر دیا گیا اور نئے سرکاری وکیل کے پاس صرف چار ماہ کا تجربہ ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت سے کہا کہ وہ ایسے سینئر ترین سرکاری وکیل کی تلاش کرے جسے سیشن عدالت میں مقدمے کی سماعت کا کافی تجربہ ہو۔ عدالت نے حکومت سے دو ہفتوں کے اندر اس سلسلے میں معلومات فراہم کرنے کو کہا۔ سماعت کے دوران پرشانت بھوشن نے کہا کہ اگر موجودہ عدالتی افسر کو لکھی پور کھیری تشدد معاملے کی سماعت جاری رکھنے دی گئی تو انہیں خدشہ ہے کہ وہ ایسا فیصلہ سنا سکتے ہیں جس میں کہا جائے گا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔
اس پر سپریم کورٹ نے بھوشن سے کہا کہ عدالتی افسر کے خلاف اس طرح کا تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے خود متعلقہ عدالتی افسر کو مقدمے کی سماعت میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ اگر کوئی گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوتا تو عدالتی افسر اس معاملے میں کیا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسئلہ عدالتی افسر سے زیادہ سرکاری وکیل سے متعلق معلوم ہوتا ہے، کیونکہ سرکاری وکیل اگلے ہی دن یہ کہہ دیتا ہے کہ وہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کرنا چاہتا۔
بھوشن نے دوبارہ عدالت کی توجہ اس جانب دلائی کہ چشم دید گواہ کے بیمار ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، اس کے باوجود عدالتی افسر نے اس کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔ جسٹس جوئی مالیا باگچی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا متعلقہ عدالتی افسر پر کوئی انتظامی اختیار نہیں ہے۔ اگر ان کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اسے الہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ اس پر بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے عدالتی افسر کے خلاف انتظامی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور یہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت دو ہفتے بعد مقرر کر دی ہے۔ کیا ہے لکھی پور کھیری تشدد معاملہ؟
تین اکتوبر 2021 کو اتر پردیش کے لکھی پور کھیری ضلع کے تیکونیا علاقے میں کسانوں کے احتجاج کے دوران تشدد ہوا تھا۔ کسان اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے علاقے کے دورے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ تشدد میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ الزام کے مطابق چار کسانوں کو ایک ایس یو وی گاڑی نے کچل دیا تھا۔
اس کے بعد مشتعل کسانوں نے ایک ڈرائیور اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو کارکنوں کو مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے میں ایک صحافی کی بھی موت ہوئی تھی۔ دسمبر 2023 میں نچلی عدالت نے مرکزی ملزم آشیش مشرا سمیت 13 ملزمان کے خلاف قتل، مجرمانہ سازش اور دیگر جرائم کے تحت الزامات طے کیے تھے۔ اس کے بعد اس معاملے میں باقاعدہ مقدمے کی سماعت کا راستہ صاف ہوا تھا۔ چھ اگست کو سپریم کورٹ نے آشیش مشرا کی ضمانت کی شرائط میں مزید نرمی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔