نئی دہلی کے تاج پیلس میں منعقدہ فورم کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب سے ہوا۔ بلومبرگ ایل پی اور بلومبرگ فلانتھروپیز کے بانی مائیکل آر بلومبرگ نے بھی افتتاحی خطاب کیا۔ اس موقع پر ہندوستان اور دنیا کے ممتاز کاروباری رہنما موجود تھے۔وزیر اعظم مودی نے طاقت کے تصور کے بارے میں ایک نیا نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سوچ کا ایک نیا انداز جنم لیتا ہے۔ طاقت کا مقصد دوسروں کو کنٹرول کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانا ہونا چاہیے۔ مقابلہ کرنے سے زیادہ اہم تعاون کرنا اور خود کامیاب ہونے سے زیادہ اہم دوسروں کی کامیابی میں مدد کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کی حقیقی قدر اس کے مقصد میں پوشیدہ ہے۔فورم کے لیے نئی دہلی کے انتخاب کی وضاحت کرتے ہوئے مائیکل بلومبرگ نے کہا کہ جدت طرازی سرمایہ کاری اور عالمی سپلائی چین میں ہندوستان کا مرکزی کردار نئی دہلی کو اس اجتماع کے لیے ایک مثالی مقام بناتا ہے۔
مائیکل آر بلومبرگ سے ملاقات
حاجی سید سلمان چشتی نے مائیکل آر بلومبرگ سے ملاقات کی اور انہیں درگاہ اجمیر شریف کی جانب سے نیک خواہشات اور دعائیں پیش کیں۔ انہوں نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی غریب نوازؒ کا وہ آفاقی پیغام بھی پہنچایا جو پوری انسانیت کے لیے محبت خدمت اور امن پر مبنی ہے۔ انہوں نے انسان دوستی صحت عامہ اور دنیا بھر کے شہروں کی فلاح و بہبود کے لیے مائیکل بلومبرگ کی طویل عرصے سے جاری خدمات کو سراہا۔تین روزہ فورم کے دوران حاجی سید سلمان چشتی نے متعدد اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کیا۔ ان میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم رشی سنک۔ بلومبرگ کی خارجہ پالیسی کی تجزیہ کار اور مشیر لنڈسے ہاورڈ۔ ناروے کے ممتاز کاروباری رہنما ڈاکٹر اوسوالڈ بیلینڈ۔ آفر گلوبل کے چیئرمین ایال آفر۔ ماروبینی کارپوریشن کے صدر اور چیف ایگزیکٹو مسایوکی اوموتو۔ جے ایس ڈبلیو گروپ کے چیئرمین سجن جندل اور گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈینس آفیسر لیلا ابراہیم شامل تھے۔
انہوں نے ٹاٹا سنز۔ ڈی پی ورلڈ۔ ابوظہبی انویسٹمنٹ کونسل۔ ہنڈائی۔ انفوسس اور انٹرنیشنل سولر الائنس کے سینئر عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔حاجی سید سلمان چشتی نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی موجودگی میں منعقدہ بلومبرگ گالا میں بھی ایک ممتاز مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس تقریب میں وزرا سفارت کاروں اور عالمی کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔دنیا کے معاشی فیصلے کرنے والی اہم شخصیات کے درمیان موجود چند روحانی رہنماؤں میں شامل حاجی سید سلمان چشتی نے مصنوعی ذہانت جغرافیائی سیاست اور معاشی ترقی سے متعلق مباحث میں ایک منفرد نقطۂ نظر پیش کیا۔ انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ دیرپا خوشحالی کی بنیاد اعتماد اخلاقی فیصلوں اور انسانیت کی خدمت پر قائم ہوتی ہے۔
حاجی سید سلمان چشتی نے کہا:’’وزیر اعظم نریندر مودی جی کا یہ پیغام کہ حقیقی طاقت دوسروں کو بااختیار بنانے میں ہے اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ سب سے بڑی قوت کمزور ترین لوگوں کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔ آج دنیا کو اسی طرز کی قیادت کی ضرورت ہے۔ دنیا طاقت کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے ہم ایک ایسا ذریعہ پیش کرتے ہیں جو سب سے قدیم بھی ہے اور سب سے زیادہ پائیدار بھی۔ یہ ذریعہ اعتماد ہے۔ سرمایہ بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرتا ہے لیکن اعتماد اس معاشرے کی تعمیر کرتا ہے جو اس بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتا ہے۔ سب کے لیے محبت اور کسی سے عداوت نہیں۔‘‘