روپے میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ روکنے کی کوششیں جاری رکھے گا آر بی آئی: سیتارمن

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
روپے میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ روکنے کی کوششیں جاری رکھے گا آر بی آئی: سیتارمن
روپے میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ روکنے کی کوششیں جاری رکھے گا آر بی آئی: سیتارمن

 



نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے منگل کو کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہندوستانی روپے کی قدر میں نمایاں گراوٹ آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) روپے کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ سیتارمن نے یہاں ’بلومبرگ نیو اکانومی فورم 2026‘ میں کہا کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

آر بی آئی اپنے قانونی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے روپے میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آر بی آئی روپے کی قدر طے کرنے کی کوشش نہیں کر رہا، بلکہ اس میں اتار چڑھاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے آر بی آئی کی جانب سے کافی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور یہ کوششیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ روپیہ اپنی قدر خود طے کرے۔‘‘

روپے کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالنے کے لیے ریزرو بینک نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ مرکزی بینک نے تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک خصوصی سہولت شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کے ذریعے ڈالر کی ان کی مانگ کو فوری خرید و فروخت کی منڈی سے ہٹایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ، روپے پر مبنی سٹے بازی کو روکنے کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کے مستقبل کے سودوں سے متعلق ضابطے بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔ آر بی آئی نے بینکوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ دو لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ کی ڈالر خریداری پر 20 فیصد رقم محفوظ رکھیں۔

سیتارمن نے کہا کہ آر بی آئی کے حالیہ اقدامات سے روپے کو سہارا ملا ہے۔ پیر کو روپے کی قدر میں ایک فیصد اضافہ ہوا، جبکہ منگل کو بھی ابتدائی کاروبار کے دوران روپیہ مضبوط ہو کر ایک ڈالر کے مقابلے میں 94.96 روپے پر پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ آر بی آئی روپے میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے آئندہ بھی اقدامات کرے گا۔‘

‘ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی اقتصادی بنیاد مضبوط ہے اور ملک کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ بیرونی چیلنجز ہیں، جبکہ حکومت ملک کے اندر معیشت کے بنیادی عوامل کو مضبوط رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا سبب نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اب بھی ایک چیلنج ہے اور حکومت اس پر توجہ دے گی۔