ممبئی: ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے کلیدی پالیسی شرح میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے بعد بدھ کو ابتدائی کاروبار میں ہندوستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 22 پیسے کمزور ہوکر 96.57 روپے فی ڈالر پر آگیا۔ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق آر بی آئی کی جانب سے شرح سود میں اضافہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔ مرکزی بینک نے اپنی پالیسی کا رخ بھی ’کیلِبریٹڈ ٹائٹننگ‘ یعنی حالات کے مطابق مرحلہ وار سختی کی جانب کیا ہے۔
اس کے ساتھ معاشی نمو اور مہنگائی کے اندازوں میں اضافہ بھی مرکزی بینک کے محتاط مگر سخت موقف کی نشاندہی کرتا ہے۔ بین بینک غیر ملکی زرمبادلہ بازار میں روپیہ 96.37 روپے فی ڈالر پر کھلا، لیکن بعد میں مزید کمزور ہوکر 96.57 روپے فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ منگل کو روپیہ 96.35 روپے فی ڈالر پر بند ہوا تھا۔
ڈی بی ایس بینک کی سینئر ماہر اقتصادیات اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر رادھیکا راؤ نے کہا کہ آر بی آئی کی اکتوبر میں شرح سود بڑھانے کا فیصلہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی سے متعلق خطرات اب معمولی نہیں رہے۔ پالیسی کے رخ میں تبدیلی بھی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے سخت موقف کو ظاہر کرتی ہے، جسے معاشی نمو اور مہنگائی کے اندازوں میں اضافے سے مزید تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے بلند تر اندازوں اور مرحلہ وار سخت مالیاتی پالیسی کے باعث قلیل مدتی شرح سود میں مزید اضافے کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ پالیسی تبدیلی ہندوستانی روپے کے لیے کسی حد تک مثبت ہے، کیونکہ شرح سود میں فرق اور سخت پالیسی کا رجحان بیرونی معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں روپے کو سہارا دے سکتا ہے، اگرچہ مضبوط امریکی ڈالر اب بھی روپے کے لیے ایک چیلنج ہے۔ آر بی آئی نے بدھ کو مسلسل مغربی ایشیا بحران کے درمیان بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے مقصد سے اپنی کلیدی پالیسی شرح میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 5.5 فیصد کردیا۔
قلیل مدتی قرض کی شرح، یعنی ریپو ریٹ، میں یہ اضافہ مرکزی بینک کی گزشتہ پالیسی سے تبدیلی کی علامت ہے۔ آر بی آئی نے آخری مرتبہ فروری 2023 میں ریپو ریٹ میں اضافہ کیا تھا اور اسے 0.25 فیصد بڑھا کر 6.50 فیصد کردیا تھا۔ اس کے بعد 2023-24 کے دوران شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ 2025 میں مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ادھر چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر ظاہر کرنے والا ڈالر انڈیکس 0.25 فیصد اضافے کے ساتھ 102.09 پر تھا۔ عالمی سطح پر خام تیل کا معیار برینٹ کروڈ بھی 0.97 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 101.56 ڈالر پر پہنچ گیا۔
ہندوستانی حصص بازار میں بھی ابتدائی کاروبار کے دوران گراوٹ دیکھی گئی۔ سینسیکس 149.14 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 72,918.67 پر، جبکہ نفٹی 93.45 پوائنٹس گر کر 22,682.65 پر کاروبار کر رہا تھا۔ ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے منگل کو خالص بنیاد پر 2,961.30 کروڑ روپے کے حصص فروخت کیے۔