چندرشیکھر آزاد کے خلاف عصمت دری کی شکایت، عدالت نے ڈی سی پی کو نوٹس جاری کیا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 05-10-2026
چندرشیکھر آزاد کے خلاف عصمت دری کی شکایت، عدالت نے ڈی سی پی کو نوٹس جاری کیا
چندرشیکھر آزاد کے خلاف عصمت دری کی شکایت، عدالت نے ڈی سی پی کو نوٹس جاری کیا

 



نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے پولیس کی جانب سے مزید وقت مانگنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ نگینہ کے رکن پارلیمنٹ چندرشیکھر آزاد کے خلاف عصمت دری کی شکایت کی تحقیقات اگلی سماعت سے پہلے مکمل کی جائیں۔ یہ حکم راؤز ایونیو کورٹ کی ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (اے سی جے ایم) نہا متل نے دیا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 23 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

شکایت کنندہ خاتون نے پہلے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔ اس نے الزام لگایا تھا کہ چندرشیکھر آزاد نے شادی کا جھوٹا وعدہ کرکے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور دھوکا دہی بھی کی۔ جب پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی تو شکایت کنندہ نے راؤز ایونیو کورٹ سے رجوع کیا۔

اس نے متعلقہ قانونی دفعات کے تحت نگینہ کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کے لیے عدالت سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔ اس سے قبل کی کارروائی میں عدالت نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرکے معاملے کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔ ابتدائی طور پر وقت دیے جانے کے بعد دہلی پولیس نے اب تک کی تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

تاہم پولیس کے وکیل نے ابتدائی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید دو سے تین ماہ کا وقت مانگا۔ شکایت کنندہ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل آشیش داس نے پولیس کی جانب سے مزید وقت مانگنے کی سخت مخالفت کی۔ قانونی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ ایسے جرائم جن میں سات سال سے زیادہ کی سزا کا التزام ہے، ان میں فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عصمت دری کے جرم میں کم از کم 10 سال کی سزا کا التزام ہے۔ پولیس کو مزید وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے اے سی جے ایم نہا متل نے متعلقہ ڈی سی پی کو براہ راست باقاعدہ نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے سینئر افسر کو ہدایت دی کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کو یقینی بنائیں کہ 23 اکتوبر کو ہونے والی اگلی سماعت سے پہلے تحقیقات مکمل ہوجائیں۔