نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پیر کو ہتک عزت کے مقدمے میں بری ہونے کے بعد اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کی۔ اتر پردیش کے سلطان پور میں واقع خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت نے 2018 میں دائر کیے گئے اس مقدمے کو خارج کر دیا۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر کانگریس کے دیگر سینئر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔
ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شبھم ورما نے 2018 میں کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران راہل گاندھی کے متنازع بیان سے متعلق فوجداری ہتک عزت کے مقدمے کو خارج کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ ان کا بیان ہتک عزت کے زمرے میں نہیں آتا۔یہ معاملہ 2018 کی انتخابی مہم کے دوران ’قتل کے ملزم‘ سے متعلق راہل گاندھی کے بیان سے جڑا تھا۔ اس بیان کا تعلق گجرات میں 2005 کے سوہراب الدین شیخ مبینہ فرضی انکاؤنٹر کیس سے تھا۔ اس معاملے کی تفتیش کے ابتدائی مراحل میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا نام بھی ملزم کے طور پر سامنے آیا تھا تاہم دسمبر 2014 میں ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔
کانگریس نے سلطان پور عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سچائی کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی راہل گاندھی سچ بولتے ہیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ان پر حملے کرتے ہیں لیکن اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سچائی کو شکست نہیں دی جا سکتی اور بالآخر اس کی جیت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عدالت کا فیصلہ بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔
اتر پردیش کانگریس کی صدر آرادھنا مشرا مونا نے بھی فیصلے کو سچائی کی جھوٹ پر فتح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے رہنما راہل گاندھی کے اعتماد کی جیت ہے۔ پارٹی کو عدلیہ پر پورا بھروسا تھا اور سچائی کو زیادہ عرصے تک دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سچ ہمیشہ سچ رہتا ہے اور بالآخر جھوٹ پر غالب آتا ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما سچن پائلٹ نے بھی عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سچائی اور انصاف کی جیت قرار دیا۔ ان کے مطابق راہل گاندھی کو مقدمات میں پھنسانے کی کوششیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں لیکن اس بار عدالت کا فیصلہ خوش آئند ہے اور انصاف کی فتح کی علامت ہے۔
راہل گاندھی کی جانب سے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل کاشی پرساد شکلا نے بھی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے راہل گاندھی کو بری کر دیا ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ شکایت کنندہ وجے مشرا اس معاملے میں متاثرہ فریق کی قانونی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔وکیل شکلا نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ابھی تک انہیں فیصلے کی مکمل نقل کا جائزہ لینے کا موقع نہیں ملا ہے۔ اس لیے مقدمہ خارج کرنے کی تفصیلی وجوہات یا عدالت کے فیصلے کی بنیاد کے بارے میں فی الحال مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ تاہم راہل گاندھی کی بریت پر وہ خوش ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ فیصلے کی مکمل نقل دستیاب ہونے اور اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی مقدمہ خارج کیے جانے کی وجوہات پر تفصیل سے بات کی جا سکے گی۔