نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعہ کو کہا کہ ہندوستان میں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر کاروبار کو مقابلہ کرنے کا مناسب موقع ملے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے یہ بھی کہا کہ کانگریس پارٹی اقربا پروری اور سیاسی سرپرستی پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے پرعزم ہے۔ راہل گاندھی کا یہ بیان امریکی صنعت کار ایلون مسک کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ہونے والی گفتگو کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے واٹس ایپ چینل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر کاروبار کو مقابلہ کرنے کا مناسب موقع ملے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’کانگریس پارٹی اور میں اقربا پروری اور سیاسی سرپرستی پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کی زنجیروں کو توڑنے اور ایسی معیشت بنانے کے لیے پرعزم ہیں جو سیاسی سرپرستی کے بجائے جدت اور سخت محنت کی بنیاد پر چلتی ہو۔‘‘ انہوں نے واضح کیا، ’’میں کاروبار کے خلاف نہیں ہوں، میں اجارہ داری کے خلاف ہوں۔‘‘ دراصل، ایلون مسک نے جمعرات کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ان کی کمپنی اسٹارلنک کو 165 سے زیادہ ممالک میں خدمات فراہم کرنے کا لائسنس حاصل ہے اور وہ گزشتہ پانچ برس سے ہندوستانی حکومت کے تمام قوانین اور تقاضوں کی پابندی کر رہی ہے۔
اس کے باوجود اسٹارلنک کو اب تک ہندوستان میں لائسنس کیوں نہیں ملا، انہوں نے یہ سوال اٹھایا۔ مسک نے اپنی پوسٹ میں صنعت کار مکیش امبانی کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا تھا، ’’کیا امبانی ہندوستان کے اصل مالک ہیں؟‘‘ اس کے بعد راہل گاندھی نے مسک کی پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ایلون، ہندوستان میں آپ کا خیرمقدم ہے۔ دوسرے شخص سے ملاقات ہوگی تو آپ کو مزید معلومات ملیں گی۔‘‘ اس کے جواب میں مسک نے کہا، ’’شکریہ، راہل۔ یہ واقعی تشویش ناک ہے۔‘‘ اس سے ایک روز قبل مسک کے اس الزام پر حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا کہ کچھ ’’بااثر کاروباری افراد‘‘ ہندوستانی بازار پر اپنی ’’اجارہ داری کی گرفت‘‘ برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔
تاہم، مسک نے کسی کمپنی کا نام نہیں لیا تھا۔ دور مواصلات کی وزارت نے جمعرات کو کہا تھا کہ ہندوستان میں سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات فراہم کرنے کے لیے ہر لائسنس یافتہ کمپنی کو سلامتی سے متعلق مقررہ معیاروں کی پابندی ثابت کرنا ضروری ہے۔ حکومت نے مسک کی اسٹارلنک، ریلائنس جیو کی سیٹلائٹ اکائی جیو سَیٹ کام اور بھارتی کی حمایت یافتہ یوٹیل سیٹ ون ویب سمیت تین کمپنیوں کو لائسنس دیے ہیں۔ تاہم، ضروری سلامتی جانچ اور اسپیکٹرم سے متعلق منظوریوں کا عمل مکمل ہونے تک ان میں سے کوئی بھی کمپنی تجارتی خدمات شروع نہیں کر سکتی۔