مساجد کے انہدام کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج، مسلم رہنماؤں سمیت متعدد مظاہرین حراست میں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-09-2026
مساجد کے انہدام کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج، مسلم رہنماؤں سمیت متعدد مظاہرین حراست میں
مساجد کے انہدام کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج، مسلم رہنماؤں سمیت متعدد مظاہرین حراست میں

 



 نئی دہلی: ملک میں مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کے خلاف انہدامی کارروائیوں کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمس کے زیر اہتمام ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ مظاہرے میں مسلم تنظیموں کے نمائندوں، سول سوسائٹی کے کارکنوں، وکلا، طلبہ اور عام شہریوں سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مذہبی مقامات کے خلاف حکومتی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور سماجی انصاف کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے متعدد مسلم رہنماؤں اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں لوک سبھا کی رکن اقرا حسن، محب اللہ ندوی، ضیاء الرحمٰن برق، جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) کے قومی صدر عبدالحفیظ سمیت کئی دیگر رہنما، طلبہ اور سماجی کارکن شامل ہیں۔ پولیس نے زیر حراست افراد کو مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ کسی ایک مسجد یا مخصوص طبقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے آئینی حقوق سے متعلق اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانا فرقہ وارانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جو ملک کی تہذیب و ثقافت کے لیے باعث تشویش ہے۔

انہوں نے مظاہرین کو حراست میں لیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والے شہری مساجد اور دیگر مذہبی مقامات سے متعلق انہدامی کارروائیوں کے خلاف اپنے قانونی اعتراضات اور خدشات پیش کر رہے تھے۔ ایسے میں پرامن احتجاج کی اجازت دینے کے بجائے مسلم رہنماؤں اور دیگر مظاہرین کو حراست میں لینا جمہوری حقوق اور آئینی آزادیوں کے احترام کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شہریوں کو پرامن طریقے سے اپنے مسائل اٹھانے کا حق حاصل ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ اور انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے صدر محمد ادیب نے کہا کہ احتجاجی پروگرام کے انعقاد کے بارے میں متعلقہ حکام کو پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا اور اس کا مقصد پرامن طریقے سے اپنے خدشات کا اظہار کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو اپنے مسائل اٹھانے سے روکنا اور ان کے رہنماؤں کو حراست میں لینا انتہائی تشویش ناک ہے۔ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے اور حکام کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔

لوک سبھا کی رکن اقرا حسن نے بھی پرامن احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مظاہروں کو خطرے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ شہریوں کو اجتماع اور اپنے خدشات کے اظہار کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو لوگوں کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مسائل سننے چاہئیں۔

منتظمین کے مطابق، احتجاج کا مقصد صرف مسلمانوں کو درپیش مسائل اجاگر کرنا نہیں تھا، بلکہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے مذہبی مقامات کے خلاف انہدامی کارروائیوں پر اپنی تشویش ظاہر کرنے کے لیے مشترکہ طور پر شرکت کی۔ مظاہرے کے دوران ملک کے وسیع تر قومی اور سماجی مسائل بھی زیر بحث آئے۔

احتجاج کے ذریعے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)، الیکشن کمیشن کے مجموعی طرزِ عمل، نوجوانوں کو درپیش مسائل اور سماجی انصاف سے متعلق دیگر امور کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی گئی۔

منتظمین نے کہا کہ جب احتجاج کے بارے میں حکام کو پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا تو مظاہرین کو حراست میں لیا جانا مزید تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مانیٹرنگ کمیٹی آئینی حقوق، مذہبی آزادی، جمہوری جواب دہی اور سماجی انصاف سے متعلق مسائل کو پرامن اور قانونی طریقے سے اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔