ممبئی: داؤدی بوہرہ جماعت کے 53ویں داعی مطلق، حضرت سیدنا عالی قدر مفضل سیف الدین صاحب کے چھوٹے بھائی، شہزادہ ادریس بدرالدین کا آج ممبئی میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 74 سال تھی۔
شہزادہ ادریس بدرالدین، مرحوم حضرت عالی قدر سیدنا محمد برہان الدین صاحب، داؤدی بوہرہ جماعت کے 52ویں داعی مطلق کے پانچویں فرزند تھے۔ انہوں نے تقریباً پانچ دہائیوں تک جماعت کی خدمت کی اور خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی رہنمائی میں داؤدی بوہرہ جماعت کے دنیا بھر میں قائم تعلیمی اداروں کو ترقی ملی اور ان کا دائرہ وسیع ہوا۔ ان اداروں کے ذریعے مختلف ممالک میں ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، نصاب میں بہتری لانے اور طلبہ کے لیے تعلیم کو آسان اور دلچسپ بنانے میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔
وہ اساتذہ کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے بھی حامی تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ اسکولوں میں جدید طریقۂ تعلیم اور نئی ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے۔ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور جسمانی نشوونما کو بھی ضروری سمجھتے تھے اور اسکولوں میں کھیل اور تفریح کے لیے مناسب سہولتوں کی حمایت کرتے تھے۔
تعلیم کے علاوہ، شہزادہ ادریس بدرالدین نے برطانیہ، آئرلینڈ، سویڈن اور ناروے میں حضرت عالی قدر سیدنا مفضل سیف الدین صاحب کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ وہ دبئی، متحدہ عرب امارات میں سلطان البوہرا فاؤنڈیشن کی کونسل کے رکن بھی رہے۔ ان ذمہ داریوں کے دوران انہوں نے سرکاری عہدیداروں اور اہم شخصیات سے روابط قائم کیے اور جماعت کے پیغامِ امن، خیرسگالی اور سماجی خدمت کو آگے بڑھایا۔
وہ برطانیہ میں جامعۃ السیفیہ ٹرسٹ کے ٹرسٹی، ممبئی میں سیفی ایجوکیشنل ایڈ پروگرام کے چیئرمین اور برہانی سینٹینری ہائر ایجوکیشن ٹرسٹ کے بھی چیئرمین رہے۔ اس کے علاوہ، انہیں برطانیہ کے قانون ’’دعوتِ ہادیہ ایکٹ 1993‘‘ کے تحت قائم کارپوریشن سول کے انتظام کے لیے نامزد افراد میں بھی شامل کیا گیا تھا۔
شہزادہ ادریس بدرالدین نے اپنی طویل خدمات کے ذریعے داؤدی بوہرہ جماعت کے تعلیمی اداروں اور فلاحی پروگراموں کی ترقی میں اہم حصہ لیا۔ تعلیم کے فروغ، اداروں کی بہتری اور جماعت کی خدمت کے لیے ان کی کوششیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔