مخطوطات کا تحفظ ماضی کی یادوں میں کھونا نہیں، فکری وسائل میں سرمایہ کاری ہے: جے شنکر

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
مخطوطات کا تحفظ ماضی کی یادوں میں کھونا نہیں، فکری وسائل میں سرمایہ کاری ہے: جے شنکر
مخطوطات کا تحفظ ماضی کی یادوں میں کھونا نہیں، فکری وسائل میں سرمایہ کاری ہے: جے شنکر

 



نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ مخطوطات کو محفوظ رکھنا ماضی کی یادوں میں کھوئے رہنے جیسا عمل نہیں، بلکہ ہندوستان کے فکری وسائل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے ’ترقی یافتہ ہندوستان‘ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور روایت کو یکجا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

جے شنکر پیر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ’نیرامیتا: جنوبی ایشیا کے متون اور روایات میں علاج اور صحت و تندرستی‘ کے عنوان سے منعقدہ نمائش کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے روایتی علم کو محفوظ رکھنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ ماضی کے تجربات مستقبل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

وزیر خارجہ نے کہا، ’’جیسا کہ آپ سب دیکھ سکتے ہیں، مخطوطات کا تحفظ دراصل ماضی کی یادوں میں کھوئے رہنے کا عمل نہیں ہے۔ یہ ہمارے فکری وسائل میں سرمایہ کاری ہے۔ اس کے پیچھے یہ یقین ہے کہ تجربات ہمیں سکھا سکتے ہیں، مستقبل کے ساتھ ہمارے تعلق کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں اور ہمارے لیے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ آخرکار، جب ہم ’ترقی یافتہ ہندوستان‘ کی بات کرتے ہیں تو ٹیکنالوجی اور روایت کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں، ترقی بھی، ورثہ بھی۔‘‘ انہوں نے اس نمائش کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر اور اس کے تمام معاونین کی ستائش بھی کی۔ یہ نمائش جنوبی ایشیا کے قدیم متون اور روایات میں علاج، صحت اور تندرستی کے تصورات پر مرکوز ہے۔

اس کا مقصد خطے کے فکری اور ثقافتی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ ہندوستانی سفارت کاری کے ذریعے ثقافتی ورثے کے تحفظ کی وسیع تر کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ تاریخی ورثے کی بحالی، اسے اس کے اصل مقام پر واپس لانے اور لوگوں کی اس تک رسائی یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہندوستان اپنی سرحدوں سے باہر بھی ایسے منصوبوں اور سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ اور ہندوستانی سفارت کاری کے نقطۂ نظر سے ثقافتی ورثے کی بحالی اور واپسی کے سلسلے میں کئی اہم کوششیں جاری ہیں۔

جے شنکر نے ویتنام میں مائی سون کے مقام پر جاری ایک بڑے منصوبے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کمبوڈیا کے پریہ ویہیر مندر اور میانمار کے آنند مندر کے ساتھ ہندوستان کے گہرے تعلق کا بھی حوالہ دیا۔ وزیر خارجہ نے سفارتی مذاکرات کے ذریعے ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو واپس لانے کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کی سرگرمی سے جانچ کرتی رہی ہے کہ ہندوستان سے باہر موجود تاریخی نوادرات اور ورثے کا اصل مقام اور تاریخ کیا ہے، اور سفارتی کوششوں کے ذریعے انہیں واپس کیسے لایا جاسکتا ہے۔

جے شنکر نے کہا، ’’حال ہی میں لیڈن تانبے کی تختیوں کی واپسی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔‘‘ انہوں نے ثقافتی ورثے کی واپسی کے لیے عالمی سطح پر، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے درمیان، بڑھتی ہوئی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، گھانا اس سلسلے میں ایک ایسی پہل کی قیادت کر رہا ہے جس میں معاوضے اور ثقافتی ورثے کی واپسی دونوں معاملات شامل ہیں۔ جے شنکر نے کہا، ’’ثقافتی ورثے کی واپسی کا معاملہ ان دنوں خاصا سرگرم ہے، کیونکہ عالمی جنوب کے کئی ممالک کے رہنما حال ہی میں افریقہ کے دورے سے واپس آئے ہیں۔

گھانا معاوضے، جو ایک قدرے الگ معاملہ ہے، اور ثقافتی ورثے کی واپسی، دونوں کے لیے ایک پہل کی قیادت کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بہت کچھ ہو رہا ہے، لیکن ورثے کی بحالی، واپسی یا اس تک رسائی، ان تمام کوششوں کے لیے سب سے اہم چیز بیداری ہے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا ماضی کیا ہے۔ دراصل، اس کے بعد ہونے والے ہر کام کی ابتدا اسی آگاہی سے ہوتی ہے۔‘‘ وزیر خارجہ نے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر اور اس کے معاونین کو ’سمہیتا پہل‘ کے لیے وزارت خارجہ کی حمایت کا یقین دلایا۔

انہوں نے اس پہل کے عالمی اثرات کو بڑھانے کے طریقوں پر غور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جے شنکر کے خطاب میں ہندوستان کے فکری اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی اہمیت نمایاں رہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی علم صرف ماضی کی یادگار بن کر نہ رہ جائے، بلکہ موجودہ دور کی ترقی اور دوسرے ممالک کے ساتھ ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔