جموں: جموں و کشمیر میں ڈسٹرکٹ مردم شماری ہینڈ بک (ڈی سی ایچ بی) کی تیاری کے لیے 100 فیصد فیلڈ ورک مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس کے تحت مرکز کے زیر انتظام علاقے کے 6,466 گاؤں اور 80 قصبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر مردم شماری امیت شرما نے ہفتہ کے روز یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ برف باری سے متاثر نہ ہونے والے علاقوں میں آبادی کی گنتی کی تیاری جاری ہے۔ اس سلسلے میں مردم شماری کے عملے کے لیے 26 اکتوبر سے جنوری 2027 تک مختلف تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اصل گنتی کا کام 25 جنوری سے شروع ہوگا۔
امیت شرما نے، جو جموں و کشمیر اور لداخ کے چیف پرنسپل مردم شماری افسر بھی ہیں، یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 8 سے 30 اکتوبر کے درمیان انجام دی گئی ڈسٹرکٹ مردم شماری ہینڈ بک کی کارروائی جموں و کشمیر میں کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگئی ہے۔ اس دوران 6,466 گاؤں اور 80 قصبوں کا سروے کیا گیا اور فیلڈ ورک 100 فیصد مکمل رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ مردم شماری ہینڈ بک میں گاؤں اور قصبوں کی الگ الگ ڈائریکٹری شامل ہوتی ہے۔ اس میں تعلیم اور صحت کے اداروں، پینے کے پانی، صفائی، بجلی، بینکنگ، مواصلات، آب پاشی، زراعت اور دیگر شہری سہولتوں سمیت بنیادی ڈھانچے کی دستیابی سے متعلق معلومات درج کی جاتی ہیں۔
شرما نے کہا کہ اس دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار کی اب جانچ اور تصدیق کی جائے گی۔ متعلقہ چارج افسران کو معلومات دوبارہ جانچنے اور مرتب کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ معلومات 15 نومبر تک ڈائریکٹوریٹ کو موصول ہوجائیں گی۔ اس کے بعد ڈائریکٹوریٹ اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لے گا اور ان کی جانچ پڑتال کرے گا۔ یہ کام 15 دسمبر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ حتمی معلومات اشاعت کے لیے ہندوستان کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے دفتر کو بھیج دی جائیں گی۔ آبادی کی گنتی کی تیاریوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے برف باری سے متاثرہ علاقوں میں یہ کارروائی ستمبر کے دوران مکمل کرلی گئی تھی۔
اس میں 16 اضلاع کے برفانی علاقوں کا احاطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشتواڑ ضلع کا پورا علاقہ اس کارروائی میں شامل تھا، جبکہ باقی 15 اضلاع کے برف باری سے متاثرہ علاقوں کا جزوی طور پر احاطہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو بھی خصوصی چارجز کے تحت گنتی میں شامل کیا گیا۔ شرما کے مطابق، اب برف باری سے متاثر نہ ہونے والے اور میدانی علاقوں میں آبادی کی گنتی کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ حکومتِ ہند نے آبادی کی گنتی کا شیڈول جاری کردیا ہے۔ اس کے مطابق، 10 سے 24 جنوری تک لوگ خود اپنی معلومات درج کرسکیں گے، جبکہ فیلڈ ورک 25 جنوری سے 28 فروری تک جاری رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ آبادی کی گنتی کے سوال نامے میں تقریباً 40 سوالات ہوں گے۔ شہریوں سے اپیل کی جائے گی کہ وہ اس عمل کو آسان بنانے کے لیے اپنے متعلقہ دستاویزات اور ذاتی معلومات پہلے سے تیار رکھیں۔ تربیتی پروگراموں کے بارے میں شرما نے بتایا کہ 15 اکتوبر کو سری نگر میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سطح پر ایک روزہ تربیتی اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ اس کی مشترکہ صدارت انہوں نے اور جموں و کشمیر کے محکمہ منصوبہ بندی، ترقی اور نگرانی کے انتظامی سکریٹری اویس احمد نے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے تربیتی پروگرام 26 اکتوبر سے 10 نومبر کے درمیان منعقد کیے جا رہے ہیں۔
کٹھوعہ ضلع اور سری نگر میونسپل کارپوریشن میں یہ تربیت مکمل ہوچکی ہے۔ تکنیکی معاونین، چارج کلرکوں اور مردم شماری کے دیگر اہلکاروں کے لیے مرکز کے زیر انتظام علاقے، ضلع اور چارج کی سطح پر الگ الگ دو روزہ تربیتی نشستیں بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔ ہر گروپ میں 30 سے 35 افراد ہوں گے اور ہر گروپ کو تربیت دینے کے لیے دو ٹرینر مقرر کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں مختلف اضلاع کے ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی جائے گی۔ یہ چار روزہ پروگرام 17 سے 20 نومبر تک قومی سطح کے ٹرینرز کی نگرانی میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد ماسٹر ٹرینرز دسمبر کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں فیلڈ ٹرینرز کو تربیت دیں گے۔
آخری مرحلے میں چارج ہیڈکوارٹر کی سطح پر شمار کنندگان اور سپروائزروں کو تربیت دی جائے گی۔ یہ پروگرام دسمبر کے چوتھے ہفتے میں شروع ہوگا اور جنوری کے دوسرے ہفتے تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ڈائریکٹر مردم شماری نے بتایا کہ میدانی علاقوں میں آبادی کی گنتی کے دوران فوج، فضائیہ، نیم فوجی دستوں اور مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کو شامل کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان اداروں کی گنتی مقررہ کاغذی طریقہ کار کے تحت کی جائے گی اور بعد میں ان کی معلومات ڈیجیٹل شکل میں فراہم کی جائیں گی۔
اس مقصد کے لیے خصوصی تربیت اور چارج کی سطح پر الگ انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ شرما نے کہا کہ بے گھر افراد کو بھی مردم شماری میں شامل کیا جائے گا۔ ان میں فٹ پاتھوں، عارضی پناہ گاہوں اور جھونپڑیوں یا شیڈز میں سونے والے افراد شامل ہیں۔ ان کی گنتی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے اور فیلڈ عملے کو واضح ہدایات دی جائیں گی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’ایک بھی شخص ایسا نہیں ہوگا جسے گنتی میں شامل نہ کیا جائے یا جس کا شمار نہ ہو۔‘‘ ان کے مطابق، مقررہ مدت کے دوران لوگوں کی گنتی اسی مقام پر کی جائے گی جہاں وہ موجود پائے جائیں گے۔ اس کے لیے مردم شماری کے مقررہ اصول کے تحت جائے وقوع پر موجودگی کی بنیاد پر شمار کیا جائے گا۔
ڈائریکٹر مردم شماری نے کہا کہ مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی، سرکاری اسکیموں، فنڈز کی تقسیم اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے مردم شماری کے درست اعداد و شمار بے حد ضروری ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مکانات کی فہرست سازی کے دوران خود شماری کے معاملے میں جموں و کشمیر نے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، جبکہ پورے ملک میں اس کا مقام تقریباً ساتویں یا آٹھویں نمبر پر رہا تھا۔ شرما نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ خود شماری کے عمل میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیں اور درست معلومات فراہم کریں۔