نئی دہلی: بہار کے بانکی پور سے رکن اسمبلی اور جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے جمعہ کو الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کے کام کرنے کے طریقے سے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر مناسب فائدہ ملا ہے۔
پرشانت کشور حال ہی میں میڈیا میں سامنے آنے والی ان خبروں کے بارے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے، جن میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کا ذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’میں پہلا شخص تھا جس نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ رویے کا غیر مناسب فائدہ بی جے پی کو مل رہا ہے۔ میں نے 2021 میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد ہی یہ بات کہی تھی۔‘‘
سیاسی انتخابی مہم چلانے والی تنظیم آئی پیک میں کام کرنے کے دوران ترنمول کانگریس کی انتخابی مہم کی قیادت کر چکے پرشانت کشور نے دعویٰ کیا، ’’میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ بی جے پی 77 نشستیں جیت سکتی ہے کیونکہ اسے الیکشن کمیشن کا تحفظ حاصل ہے۔ اگر انتخابات مکمل طور پر آزادانہ اور منصفانہ ہوتے تو اس کی نشستیں 50 سے زیادہ نہیں ہوتیں۔ کمیشن کی جانبداری کی وجہ سے بی جے پی کو سخت مقابلہ دینے والی جماعتیں ہار جاتی ہیں۔‘‘