صبیحہ فاطمہ
’’اُڑان 2026 محض ایک اور کانفرنس نہیں ہے۔ یہ اقلیتی طبقے کے کاروباری افراد کے لیے وقار، مواقع اور معاشی خودمختاری کی جانب ہماری اجتماعی پرواز ہے۔ جب صنعت کار، حکومت، سرمایہ کار اور نوجوان اختراع کار ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں تو ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔‘‘
— عبدالرشید بی جے، صدر، مسلم انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن
31 اکتوبر 2026 کی صبح بنگلورو کے ایچ بی آر لے آؤٹ میں واقع بیریز امیٹی کے خوب صورت ہال ایک اہم اجتماع کے گواہ بنیں گے۔ وہاں ایسے صنعت کار جمع ہوں گے جنہوں نے صفر سے اپنی فیکٹریاں قائم کیں، ایسے نوجوان کاروباری افراد بھی ہوں گے جو نئے خیالات کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقت میں بدل رہے ہیں، ایسے سرمایہ کار بھی شرکت کریں گے جو بامقصد سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں اور حکومت کے سینئر نمائندے بھی موجود ہوں گے۔ یہ سب اُڑان 2026 — اقلیتی کاروبار کو بلندیوں تک لے جانے کے عنوان سے منعقد ہونے والے پروگرام میں شریک ہوں گے۔
مسلم انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن (ایم آئی اے) کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس اہم پروگرام کا مقصد محض کاروباری روابط قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ کرناٹک میں اقلیتی طبقے کے کاروبار کی کہانی کو ایک نئی سمت دینا ہے۔ اس کا ہدف مشکلات سے ترقی، تنہائی سے تعاون اور خوابوں سے کامیابی تک کا سفر طے کرنا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اُڑان کے انعقاد کا مقصد حکومت، صنعت کاروں، تاجروں اور افسران کے درمیان بامعنی اور مستقل مکالمے کا آغاز کرنا بھی ہے، تاکہ پالیسیوں اور عملی سطح پر درپیش مسائل کو براہ راست گفتگو کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
بنگلورو پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرشید بی جے نے اس پروگرام کے مقصد کو واضح الفاظ میں بیان کیا۔
انہوں نے کہا، ’’آج ہمارے پاس صلاحیت بھی ہے، سرمایہ بھی اور حکومتی اسکیمیں بھی۔ اس کے باوجود یہ سب الگ الگ ہیں۔ اُڑان پانچ اہم فریقوں، یعنی اسٹارٹ اپس، صنعت، بڑے سرمایہ کاروں، حکومت اور تعلیمی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لائے گا، تاکہ محض ایک دوسرے سے بات چیت کرکے 50 فیصد مسائل حل کیے جا سکیں۔‘‘
اعداد و شمار بھی اس شعبے کی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ سال کرناٹک مائنارٹیز ڈیولپمنٹ کارپوریشن (کے ایم ڈی سی) کے تحت 63 سے زائد درخواست گزاروں میں سے صرف 30 کو 5 کروڑ روپے کے محدود بجٹ سے مدد مل سکی۔ بعد میں اضافی کوششوں کے ذریعے مزید 4 کروڑ روپے جمع کیے گئے۔ اُڑان 2026 میں مسلم انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن کا اہم مطالبہ یہ ہوگا کہ اس فنڈ کو بڑھا کر 50 کروڑ روپے کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ قابل اور امید افزا کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔
اس موقع پر شرکت کرنے والے وزرا کو ایک باضابطہ میمورنڈم پیش کیا جائے گا۔ اس میں صنعتی سبسڈی کی منصفانہ تقسیم، سرکاری گرانٹس تک آسان رسائی، کاروبار شروع کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے مخصوص پروگراموں اور کاروبار دوست پالیسیوں کا مطالبہ کیا جائے گا۔
ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری اور پروجیکٹ ہیڈ محمد عظمت اللہ کہتے ہیں، ’’ہم کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم صرف یکساں مواقع چاہتے ہیں، تاکہ اقلیتی کاروباری افراد بھی مقابلہ کر سکیں، روزگار پیدا کریں اور کرناٹک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔‘‘
پہلی مرتبہ مسلم انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن ایک مخصوص انکیوبیشن سینٹر قائم کرنے کے اپنے منصوبے کو عوامی سطح پر پیش کرے گی۔ اس مرکز کے ذریعے کاروباری افراد کو رہنمائی، ہنر کی تربیت، صنعت سے روابط، سرمایہ کاروں تک رسائی اور سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے میں مدد فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح ان سہولتوں کو ایک منظم ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔
عبدالرشید اس منصوبے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے، لیکن صرف ایک مرکز کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ایسے 100 مراکز کی ضرورت ہے۔ ہنر پر مبنی تعلیم چھٹی جماعت سے شروع ہونی چاہیے، نہ کہ گریجویشن کے بعد۔ معاشی ترقی صرف تقریروں سے نہیں ہوتی، بلکہ ایسے نظام قائم کرنے سے ہوتی ہے جو کم عمری ہی سے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔‘‘

پروگرام کے دن اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے 30 اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو کرناٹک میں سرکاری گرانٹس اور فنڈنگ حاصل کرنے میں ان کی کامیابی کے اعتراف میں خصوصی طور پر اعزازات سے نوازا جائے گا۔
ان باصلاحیت کاروباری افراد کو سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے سامنے اپنے منصوبے پیش کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔ اس کا مقصد محض ان کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں، بلکہ حقیقی سرمایہ کاری، کاروباری شراکت داری اور منڈیوں تک رسائی کے نئے راستے کھولنا ہے۔
اس پروگرام میں وزیر یو ٹی قادر اور رضوان ارشد، اسمبلی اسپیکر سلیم احمد، وزیر اعلیٰ کے اقتصادی مشیر ایل کے عتیق، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ منصور علی خان، ممتاز صنعت کاروں، بڑے سرمایہ کاروں، تجارتی تنظیموں کے سربراہوں اور مستقبل کے کاروباری منظرنامے کی نمائندگی کرنے والے نوجوان بانیوں کی شرکت متوقع ہے۔
ایسوسی ایشن کے نائب صدر طاہر شریف اس پروگرام کے مقصد کو مختصر الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ’’بنگلورو کو ہندوستان کا اسٹارٹ اپ دارالحکومت کہا جاتا ہے، لیکن ہماری اپنی برادری میں یونیکورن کمپنیوں اور تیزی سے ترقی کرنے والے کامیاب کاروباروں کی تعداد اب بھی کم ہے۔ اُڑان اس صورت حال کو مستقل طور پر بدلنے کی ہماری سنجیدہ کوشش ہے۔‘‘
مسلم انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن کا قیام 2004 میں صنعتی علاقے پینیا میں عمل میں آیا تھا، جبکہ اس کی باضابطہ رجسٹریشن 2007 میں ہوئی۔ اس کے بانی ارکان کامیاب صنعت کار اور تاجر تھے، جن کا ماننا تھا کہ برادری کو صرف روزگار تلاش کرنے والوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے روزگار فراہم کرنے والا بھی بننا چاہیے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایم آئی اے نے کاروباری اجلاس، ماہانہ نیٹ ورکنگ ملاقاتوں، جنہیں ’ملاقاتِ کاروبار‘ کہا جاتا ہے، روزگار سے متعلق پروگراموں اور ہنر مندی کے متعدد اقدامات کا اہتمام کیا ہے۔ اُڑان 2026 اسی طویل سفر کا اگلا مرحلہ ہے، جس میں زیادہ واضح اہداف، بلند عزائم اور باہمی تعاون پر زور دیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے سکریٹری میر عبدالحفیظ کہتے ہیں، ’’ہم ہمیشہ سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جب اقلیتی کاروباری افراد کامیاب ہوتے ہیں تو پوری معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، اختراع کو فروغ ملتا ہے اور سماجی اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کامیابی کو محض اتفاق پر چھوڑنے کے بجائے اسے ایک منظم عمل بنانا ہے۔‘‘
اُڑان کو ایک محدود اور معیاری اجتماع کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، جس میں 500 سے 600 تک رجسٹرڈ شرکا کو شرکت کی اجازت ہوگی۔ منتظمین کے مطابق عام لوگوں کے لیے کھلی شرکت کا انتظام نہیں ہے۔ دعوت نامے جاری کیے جائیں گے، لیکن شرکت کے لیے رجسٹریشن لازمی ہوگی۔ اس کا مقصد شرکا کی تعداد بڑھانے کے بجائے معیاری گفتگو اور نتیجہ خیز روابط کو ترجیح دینا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے ایم آئی اے کی خواہش ہے کہ اُڑان ایک سالانہ ادارہ جاتی پروگرام بن جائے۔ ایسا پلیٹ فارم جہاں حکومتی اسکیموں کو بہتر بنایا جا سکے، سرمایہ کار نئی صلاحیتوں کو پہچان سکیں اور نوجوان کاروباری افراد کو ضروری رہنمائی اور سرمایہ میسر آ سکے۔
اس سلسلے میں تعلیمی اداروں، جن میں الامین، شاہین، امید اکیڈمی، پریسٹیج اور پریزیڈنسی شامل ہیں، نیز بڑے کاروباری اداروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے، تاکہ ریاست بھر میں مزید انکیوبیشن سینٹر قائم کیے جا سکیں۔
31 اکتوبر کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی بنگلورو کے کاروباری حلقوں میں اس پروگرام کے حوالے سے توقعات بڑھ رہی ہیں۔ اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے نوجوان کاروباری افراد کے لیے یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے جب انہیں ایسے فیصلہ سازوں کے سامنے اپنے منصوبے پیش کرنے کا موقع ملے، جو ان کے مسائل اور صلاحیتوں دونوں کو سمجھتے ہیں۔
عبدالرشید بی جے اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہمارے پاس ایسے نوجوان ہیں جن کے پاس علم بھی ہے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھی۔ ہمارے پاس تجربے اور وسائل سے مالا مال صنعت کار ہیں۔ ہمارے پاس حکومتی اسکیمیں بھی ہیں، جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جس چیز کی کمی تھی، وہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جو ان سب کو ایک ساتھ لے آئے۔
اُڑان 2026 وہی پلیٹ فارم ہے۔ اب صرف ایک سوال باقی ہے، کیا ہم پرواز کے لیے تیار ہیں؟‘‘
31 اکتوبر کو بیریز امیٹی میں اس سوال کا جواب سامنے آنا شروع ہوگا۔ ایک گفتگو، ایک کاروباری منصوبے کی پیش کش اور ایک شراکت داری کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں کھلنے کی امید ہے۔