نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز مہالیہ کے موقع پر لوگوں کو مبارک باد دی اور ماں درگا سے دعا کی کہ ان کی برکتوں سے معاشرے میں خوشی، ہمدردی اور امید پیدا ہو اور ہر طرف امن و خوش حالی کا ماحول قائم ہو۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا، ’’شبھو مہالیہ! ہم ماں درگا کا آشیرواد مانگتے ہیں۔ ان کی برکتوں سے ہمارے معاشرے میں خوشی، ہمدردی اور امید پیدا ہو۔ ہر طرف امن اور خوش حالی قائم ہو۔‘‘ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اس موقع پر لوگوں کو مبارک باد دی۔
انہوں نے دعا کی کہ ماں درگا کی برکتوں سے ہر شخص کی زندگی خوشیوں، صحت اور خوش حالی سے بھر جائے۔ امت شاہ نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا، ’’شبھو مہالیہ! مہالیہ کے مقدس موقع پر سبھی کو دلی مبارک باد۔ ماں درگا کی برکتیں ہر زندگی کو بے پناہ خوشیوں، صحت اور خوش حالی سے مالا مال کریں۔‘‘ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے بھی مہالیہ کے موقع پر لوگوں کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ماں درگا کی آمد ہر شخص کی زندگی میں خوشی، امن اور خوش حالی لے کر آئے گی۔
انہوں نے مغربی بنگال میں ورثے، ثقافت، اتحاد اور بھائی چارے کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کی دعا بھی کی۔ سوویندو ادھیکاری نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’شبھو مہالیہ! دیبی پکھالی کے مبارک آغاز پر میں سبھی کو دلی محبت اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ ماں آ رہی ہیں۔ ان کی آمد ہر زندگی کو خوشی، امن اور خوش حالی سے بھر دے۔ میری دعا ہے کہ مغربی بنگال میں ورثے، ثقافت، اتحاد اور بھائی چارے کے رشتے مزید مضبوط ہوں۔ سب کا بھلا ہو۔‘‘ دریں اثنا، مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں عقیدت مندوں نے لال موہن ملک نرنجن گھاٹ پر مقدس ڈبکی لگائی۔
تمل ناڈو میں بھی مہالیہ اماوسیا کے موقع پر ہزاروں عقیدت مندوں نے تروچیراپلی کے سری رنگم میں دریائے کاویری کے گھاٹوں پر مقدس غسل کیا اور اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں مذہبی رسومات ادا کیں۔ یہ تہوار تمل کیلنڈر کے ماہ پُراتاسی میں منایا جاتا ہے۔ تروچیراپلی، تنجاوور، اریالور، پیرمبلور، پڈوکوٹئی اور کارائیکوڈی سمیت ریاست کے مختلف علاقوں سے عقیدت مند یہاں پہنچے۔ رسومات کی ادائیگی کے بعد بہت سے لوگوں نے سری رنگم کے شری رنگناتھ سوامی مندر، تھیروانائیکاول کے جمبوکیشور مندر اور سمایا پورم کے مریمّن مندر میں حاضری دی اور پوجا کی۔ رامیشورم میں بھی مہالیہ اماوسیا کے موقع پر ہزاروں عقیدت مندوں نے اگنی تیرتھ کے مقام پر سمندر میں مقدس ڈبکی لگائی اور اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں ترپن سمیت مختلف مذہبی رسومات ادا کیں۔