کناٹ پلیس میں 16 اکتوبر کے احتجاج پر پابندی کی درخواست

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 15-10-2026
کناٹ پلیس میں 16 اکتوبر کے احتجاج پر پابندی کی درخواست
کناٹ پلیس میں 16 اکتوبر کے احتجاج پر پابندی کی درخواست

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو اس عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی جس میں کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) کے بانی ابھجیت دپکے کی جانب سے 16 اکتوبر کو کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں بلائے گئے احتجاج پر پابندی لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔ سینئر وکیل سچن پوری نے قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما کی بنچ کے سامنے فوری سماعت کے لیے اس معاملے کا ذکر کیا۔

پوری نے کہا، ’’کناٹ پلیس کے عین وسط میں واقع سینٹرل پارک میں احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج کے لیے مقررہ مقام نہیں ہے۔ دکانداروں نے دکانیں بند کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ دسہرہ کے تہوار اور ہفتے کے آخر کا وقت ہے۔ اس احتجاج کو روکا جانا چاہیے۔‘‘ بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی جمعرات کو دن میں احتجاج سے متعلق معاملات پر سماعت کرنے والی ہے۔

عدالت نے وکیل سے کہا کہ وہ دوسرے فریقوں کو اطلاع دیں اور دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ عدالت میں حاضر ہوں۔ ابھجیت دپکے نے ’’دیش پریمیوں‘‘ سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کو دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک میں قومی پرچم لے کر جمع ہوں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ کاجپا کے ارکان سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو ’’ترنگا لہرانے کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔‘

‘ سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو امن برقرار رکھنے کے لیے دیے گئے مچلکے کی خلاف ورزی کرنے اور جنتر منتر میں زبردستی داخل ہونے کے الزام میں بدھ کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اسی روز دپکے نے سینٹرل پارک میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وکیل رشبھ سکسینہ اور تاجروں نے دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں کو قابو میں رکھنے اور ان کے لیے ضابطے مقرر کرنے کی درخواست کے ساتھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔