دہلی میں مظاہروں کے دوران صحافیوں کی حراست اور حملوں کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
دہلی میں مظاہروں کے دوران صحافیوں کی حراست اور حملوں کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی
دہلی میں مظاہروں کے دوران صحافیوں کی حراست اور حملوں کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی

 



نئی دہلی: دہلی یونین آف جرنلسٹس (ڈی یو جے) نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے الزام لگایا ہے کہ 10 اور 11 اکتوبر کو قومی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں کی رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو حراست میں لیا گیا، ان کے ساتھ دھکا مکی کی گئی اور انہیں اپنا کام کرنے سے روکا گیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ صحافیوں کو زبردستی مظاہرے کی جگہ سے دور لے جایا گیا، انہیں ویڈیو بنانے سے روکا گیا اور بعض معاملات میں ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔

عرضی میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ صحافیوں کے فون، کیمرے اور مائیکروفون چھین لیے گئے۔ خاتون صحافیوں کی نامناسب طریقے سے تلاشی لی گئی اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ یہ عرضی تنظیم کے ارکان اور دیگر متاثرہ صحافیوں کی جانب سے وکیل ششانک سنگھ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں سینئر صحافی پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا کے دستخط شدہ بیان کا حوالہ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 10 اکتوبر کو پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کا تسلیم شدہ صحافی ہونے کا شناختی کارڈ دکھانے کے باوجود انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نہ تو انہیں حراست میں لینے کی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی دستاویز فراہم کی گئی۔ تنظیم نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک کمیٹی کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا ہے، جس کے مطابق ان دو دنوں کے دوران دہلی میں کم از کم 35 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔

دہلی یونین آف جرنلسٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو ان کی منظوری یا شناخت کی حیثیت سے قطع نظر قانون کے مطابق رپورٹنگ کرنے کا تحفظ فراہم کیا جائے۔ تنظیم نے معاملے کی مقررہ مدت میں آزادانہ تحقیقات کرانے، شواہد کو فوری طور پر محفوظ کرنے اور حکام کے قبضے میں مبینہ طور پر موجود صحافیوں کے آلات واپس کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ڈی یو جے نے کہا ہے کہ جہاں قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو، وہاں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرہ صحافیوں کو معاوضہ دیا جائے۔ تنظیم نے عوامی تقریبات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں، خاص طور پر خاتون صحافیوں کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔