نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2,000 روپے سے زیادہ کی مقررہ یو پی آئی شخص سے تاجر (پی ٹو ایم) لین دین پر ’مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ‘ (ایم ڈی آر) عائد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر پیر کو مرکز، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) اور دیگر متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی. موہنا کی بنچ نے عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور مرکز، آر بی آئی اور دیگر فریقوں کو چار ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم، بنچ نے ایم ڈی آر عائد کرنے کے مرکز کے فیصلے پر کسی بھی طرح کی عبوری روک لگانے سے انکار کردیا۔
مرکز کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل این. وینکٹ رمن نے بنچ کو بتایا کہ یو پی آئی استعمال کرنے والے 96 فیصد لوگ اس فیس سے مستثنیٰ ہیں۔ بنچ نے کہا، ’’یہ معاملہ قانونی سے زیادہ تکنیکی نوعیت کا ہے۔‘‘ سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے اور فریقین کو چار ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کے بعد عرضی گزار کے وکیل نے بنچ سے درخواست کی کہ تب تک ایم ڈی آر عائد کرنے کے فیصلے پر روک لگا دی جائے۔
تاہم، عدالت نے عبوری روک لگانے سے انکار کردیا۔ وکیل انجَن دتہ نے اس سلسلے میں مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کی ہے۔ حکومت نے تقریباً چھ سال تک مکمل طور پر مفت رہنے والی یو پی آئی (یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس) ادائیگی کی سہولت کے بعد 15 اکتوبر سے یو پی آئی کے ذریعے تاجروں کو کیے جانے والے 2,000 روپے سے زیادہ کے ادائیگی پر 0.4 فیصد فیس عائد کی ہے۔
تاہم، روزمرہ کے شخص سے شخص (پی ٹو پی) لین دین اور چھوٹی رقم کی ادائیگیوں کو واضح طور پر کسی بھی فیس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ 75,000 روپے یا اس سے زیادہ کی ادائیگی پر ایم ڈی آر کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے ہوگی۔ ریلوے، ٹیلی مواصلات، بیمہ، ایندھن اور زرعی اشیا جیسے ضروری اور کم منافع والے شعبوں میں 2,000 روپے سے زیادہ کے ہر لین دین پر پانچ روپے کا مقررہ ایم ڈی آر عائد کیا جائے گا۔
میوچول فنڈز، سیکیورٹیز اور اسٹاک بروکرز و ڈیلرز کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں پر 0.02 فیصد ایم ڈی آر ہوگا، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے مقرر کی گئی ہے۔ شخص سے شخص (پی ٹو پی) رقم کی منتقلی پر رقم کتنی بھی ہو، کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ ایسے لین دین یو پی آئی کے کل لین دین کی تعداد کا 37 فیصد اور مجموعی مالیت کا 70 فیصد ہیں۔