امین الشریعہ سید علی بافقیہ کے انتقال سے علمی و روحانی حلقوں میں غم کی لہر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
امین الشریعہ سید علی بافقیہ کے انتقال سے علمی و روحانی حلقوں میں غم کی لہر
امین الشریعہ سید علی بافقیہ کے انتقال سے علمی و روحانی حلقوں میں غم کی لہر

 



کالی کٹ: عبدالکریم امجدی

کیرالہ کے ممتاز عالم دین، صوفی بزرگ، سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء کے نائب صدر اور جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کے صدر اعلیٰ حضرت سید علی بافقیہ تنگل پیر کی شام داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انہوں نے شام 5 بج کر 20 منٹ پر کالی کٹ کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کی عمر 88 برس تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سے کیرالہ کے علمی، دینی اور روحانی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ علما، مشائخ، مذہبی و سماجی شخصیات اور ان کے عقیدت مندوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ایک بڑا علمی اور روحانی خسارہ قرار دیا ہے۔

حضرت سید علی بافقیہ تنگل متعدد دینی و سماجی تنظیموں کے سربراہ ہونے کے ساتھ محل قاضی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ سنی ایجوکیشن بورڈ آف انڈیا اور سنی جمعیۃ المعلمین کے ریاستی صدر بھی تھے۔ دینی تعلیم کے فروغ اور دینی اداروں کی سرپرستی میں ان کا کردار نہایت نمایاں رہا۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ منگل کو دوپہر ایک بجے کوئلانڈی میں ادا کی جائے گی۔ ان کے انتقال کے پیش نظر سنی ایجوکیشن بورڈ کے تحت چلنے والے ریاست کے تمام مدارس میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ کے دفتر سے باضابطہ اطلاع بھی جاری کردی گئی ہے۔

علمی و دینی خدمات سے معمور زندگی

حضرت سید علی بافقیہ تنگل 1938ء میں کیرالا کے ممتاز سادات خاندان، خاندانِ بافقیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید احمد بافقیہ اور والدہ کا نام شریفہ نفیسہ بیوی تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریب واقع مپیلا اسکول کوئلانڈی سے حاصل کی۔ 1950ء میں تلی پرمب کے قوت الاسلام عربک کالج میں داخلہ لیا اور وہاں دینی و عربی علوم کی تعلیم حاصل کی۔

بعد ازاں کالی کٹ، کوئلانڈی اور پرپننگاڈی کی جامع مساجد میں مختلف علما سے علمی استفادے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے 1965ء میں جامعہ نوریہ پٹّی کاد میں داخلہ لیا اور پانچ سال تک وہاں زیر تعلیم رہے۔

جامعہ نوریہ میں دورانِ تعلیم ان کی علمی و تنظیمی صلاحیتیں نمایاں ہوکر سامنے آئیں۔ انہیں طلبہ کی تنظیم ’’نور العلماء‘‘ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ جامعہ نوریہ میں ان کے ہم درس پنا کّاد عمر علی شہاب تنگل تھے۔ اسی زمانے میں ان کی قیادت میں جامعہ نوریہ کے ماہنامہ ’’المنیر‘‘ کی اشاعت کا آغاز بھی ہوا۔ ان کے ممتاز اساتذہ میں حافظ محمد مصلیار، کٹی محمد مصلیار، کوٹّوملا ابوبکر مصلیار اور ای کے ابوبکر مصلیار کے نام قابل ذکر ہیں۔

چھ دہائیوں پر محیط دینی و ملی قیادت

حضرت سید علی بافقیہ تنگل کی زندگی کا ایک بڑا حصہ دینی رہنمائی، تدریس، اصلاح معاشرہ اور تنظیمی خدمات میں گزرا۔ وہ تقریباً چھ دہائیوں سے کوئلانڈی کی ولیاکم جامع مسجد میں خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ کوئلانڈی کے مختلف دینی و تعلیمی اداروں کی سربراہی اور سرپرستی بھی ان کے ذمہ رہی۔

گزشتہ نصف صدی کے دوران سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء اور اس کی ذیلی تنظیموں کی قیادت میں ان کا اہم کردار رہا۔ نائب صدر کی حیثیت سے انہوں نے تنظیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے اور دینی و تعلیمی اداروں کے استحکام کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ سنی ایجوکیشن بورڈ آف انڈیا اور سنی جمعیۃ المعلمین کے ریاستی صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے دینی تعلیم کے فروغ اور مدارس کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ان کی علمی بصیرت، دینی وابستگی، روحانی شخصیت اور تنظیمی صلاحیتوں نے انہیں کیرالا کے علما و مشائخ میں ممتاز مقام عطا کیا تھا۔ ان کی سرپرستی میں متعدد دینی و تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دینی اداروں اور ملت کی رہنمائی کے لیے وقف کیے رکھا۔

پسماندگان

حضرت سید علی بافقیہ تنگل کی اہلیہ شریفہ ام کلثوم کا انتقال ان سے پہلے ہوچکا تھا۔ ان کے پسماندگان میں آٹھ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی شامل ہیں۔ صاحبزادوں کے نام سید ابراہیم بافقیہ، سید حسین بافقیہ، سید عثمان بافقیہ، سید اسماعیل بافقیہ، سید زید عمر بافقیہ، سید زین بافقیہ، سید عبدالرحمن بافقیہ اور سید ہاشم بافقیہ ہیں، جب کہ صاحبزادی سیدۃ شریفہ رقیہ ہیں۔

ان کے انتقال سے کیرالا کی دینی و علمی دنیا ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگئی ہے جس نے اپنی زندگی کے کئی عشرے دین کی خدمت، علمی رہنمائی اور دینی اداروں کی سرپرستی میں گزارے۔ علما و مشائخ اور ان کے عقیدت مندوں نے ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت سید علی بافقیہ تنگل کی دینی و ملی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔