نئی دہلی: پارلیمنٹ کی ریلوے سے متعلق مستقل کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے دوران ریل گاڑیوں کے محفوظ آپریشن، مسافروں کی سہولتوں، ٹکٹوں کی ریزرویشن کے نظام، مال برداری کی خدمات اور جدید کاری سمیت 21 امور کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی ہر مالی سال کے دوران ریلوے کی وزارت کے کام کاج، پالیسیوں اور مالی معاملات سے متعلق مختلف موضوعات کا انتخاب کرتی ہے، ان کا جائزہ لیتی ہے اور اس سلسلے میں رپورٹ تیار کرتی ہے۔ بعد میں یہ رپورٹیں پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہیں، جن میں وزارت کے لیے مختلف سفارشات شامل ہوتی ہیں، تاکہ ضروری اقدامات کے ذریعے بہتری لائی جا سکے۔
کمیٹی نے مسافروں سے متعلق جن موضوعات کا انتخاب کیا ہے، ان میں ہندوستانی ریلوے میں آپریشن کے دوران حفاظت کی صورت حال، ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کی سہولتوں میں بہتری، ٹکٹوں کی ریزرویشن کے نظام کا کام کاج اور ٹرینوں کے اندر فراہم کی جانے والی خدمات کا جائزہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے تجارتی سرگرمیوں سے متعلق کئی امور کو بھی جائزے کے لیے منتخب کیا ہے۔ ان میں ریلوے کی زمین کا زیادہ سے زیادہ استعمال، اسٹیشنوں کے آس پاس منصوبہ بند تجارتی ترقی، ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارکوں کی تعمیر اور انہیں سڑکوں اور بندرگاہوں کے نیٹ ورک سے جوڑنا شامل ہے۔
ریلوے کی مال برداری کی خدمات میں مقدار اور آمدنی کے لحاظ سے کوئلے، لوہے کے خام دھات، سیمنٹ اور کلنکر کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس لیے کمیٹی مال برداری میں دیگر اشیا کی حصہ داری بڑھانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لے گی۔ ہندوستانی ریلوے کے کئی سرکاری ادارے اور ورکشاپس اہم کام انجام دینے کے ساتھ آپریشن سے متعلق مشکلات سے نمٹنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ کمیٹی ان اداروں کی کارکردگی، ریلوے کی ترقی اور توسیع میں ان کے کردار اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت انجام دی جانے والی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے گی۔
ہندوستان میں تیز رفتار ریل نیٹ ورک کی تعمیر بھی کمیٹی کے مطالعے میں شامل ہے۔ حکومت نے مرکزی بجٹ 2026-27 میں تقریباً 4,000 کلومیٹر طویل سات تیز رفتار ریل راہداریوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ ان منصوبوں پر مجموعی طور پر تقریباً 16 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اندازہ ہے۔ کمیٹی ہندوستانی ریلوے میں توانائی کی بچت، ملک میں مضافاتی ریل نیٹ ورک کی موجودہ صورت حال اور اس کی پیش رفت کا بھی جائزہ لے گی۔
اس میں نئے منصوبے اور توسیعی منصوبے شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کی شراکت داری (پی پی پی) کے تحت شروع کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کمیٹی ریلوے کے ذریعے سیاحت کو فروغ دینے، انسانی وسائل کے انتظام اور ریلوے کے تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق امور کا بھی مطالعہ کرے گی۔