صدر مرمو کے ساتھ ملاقات کے بعد اپوزیشن مطمئن، ووٹ چوری کے خلاف احتجاج جاری رہے گا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 10-10-2026
صدر مرمو کے ساتھ ملاقات کے بعد اپوزیشن مطمئن، ووٹ چوری کے خلاف احتجاج جاری رہے گا
صدر مرمو کے ساتھ ملاقات کے بعد اپوزیشن مطمئن، ووٹ چوری کے خلاف احتجاج جاری رہے گا

 



نئی دہلی: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے رکن پارلیمنٹ پی سنتوش کمار نے ہفتے کے روز کہا کہ صدر دروپدی مرمو نے ووٹ چوری کے مبینہ معاملے پر ان کی تشویش سنی اور مثبت قدم اٹھایا، جس کے بعد انڈیا اتحاد کے رہنما مطمئن ہیں۔ سنتوش کمار نے بتایا کہ انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے صدر کے سامنے ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال، خاص طور پر ووٹ چوری کے الزامات سے متعلق معاملات، رکھے۔

انہوں نے کہا کہ صدر نے وفد کے ارکان کی باتیں اور دلائل صبر و تحمل کے ساتھ سنے۔ ملاقات کے بعد رہنما مطمئن ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ صدر نے اس معاملے میں مثبت قدم اٹھایا ہے۔ سنتوش کمار کے مطابق، ووٹ چوری کے معاملے پر احتجاج پرسوں بھی جاری رہے گا۔ سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجا نے بھی کہا کہ وفد نے صدر کو ایک یادداشت پیش کی، جسے ملاقات کے دوران پڑھ کر سنایا گیا۔ وفد کے ہر رکن نے اپنے خدشات اور مطالبات صدر کے سامنے رکھے۔

ڈی راجا نے کہا، ’’صدر جمہوریہ کے ساتھ ہماری ملاقات اچھی رہی۔ انہوں نے ہماری باتیں صبر سے سنیں اور ہم نے اپنے نکات واضح طور پر ان کے سامنے رکھے۔ ہماری پیش کردہ یادداشت بھی انہیں پڑھ کر سنائی گئی اور وفد کے ہر رکن نے اپنی بات رکھی۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ صدر دروپدی مرمو نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گی اور اس سے متعلق ثبوت حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

ڈی راجا کے مطابق، ملاقات میں راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے پاس کچھ ایسی معلومات اور مواد موجود ہیں، جو وہ صدر کو فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ ملاقات جمعہ کی شام ہوئی تھی، جب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد کے وفد نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے اپنے مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی۔ ملاقات کے بعد راہل گاندھی نے صدر کے ردعمل پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ صدر نے اپوزیشن کے ووٹ چوری کے الزامات کو مسترد نہیں کیا، بلکہ وفد سے ثبوت فراہم کرنے کو کہا۔