نئی دہلی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ ملک میں ایسا تعلیمی نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے جو بچوں کو صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے بجائے عملی زندگی کی تیاری میں بھی مدد دے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں تنقیدی سوچ، ڈیجیٹل خواندگی، بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت اور ذمہ داری کا مضبوط احساس پیدا کرنا ضروری ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ بچوں کی تعلیمی، سماجی اور ذہنی نشوونما سے متعلق مختلف ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومتوں، اساتذہ، تعلیمی اداروں، والدین اور سماجی برادریوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ وہ نئی دہلی میں منعقدہ ’اسکول لیڈر آف دی ایئر 2026 سمٹ اینڈ ایوارڈز‘ سے خطاب کررہے تھے۔
اس پروگرام میں نامور ماہرین تعلیم، اسکولوں کے پرنسپل اور تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس کا مقصد اسکولی تعلیم میں بہترین کارکردگی، جدت اور مؤثر قیادت کو سراہنا تھا۔ اس موقع پر عمر عبداللہ نے ملک کی تعمیر میں اسکولوں کے سربراہان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرنسپل اور ہیڈ ٹیچر صرف اسکولوں کا انتظام ہی نہیں سنبھالتے، بلکہ وہ تعلیمی ماحول بنانے، بچوں میں اقدار پیدا کرنے، ان کے خوابوں کو جلا بخشنے اور ان کے مستقبل کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ، سب کو ساتھ لے کر چلنے والے، جدت پسند اور طلبہ کی ضروریات پر توجہ دینے والے تعلیمی اداروں کی تعمیر کے لیے مضبوط قیادت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ تعلیم کا مقصد ہر بچے کی ہمہ جہت نشوونما ہونا چاہیے۔ اس کے لیے صرف تعلیمی کامیابیوں پر توجہ دینا کافی نہیں، بلکہ بچوں میں تخلیقی صلاحیت، اظہار و ابلاغ کی مہارت، دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا جذبہ، مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی سمجھ بھی پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو طلبہ کو اس قابل بنانا چاہیے کہ وہ مستقبل میں سامنے آنے والے نئے چیلنجوں کا اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ مقابلہ کرسکیں۔
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان وسائل کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ تعلیم کے نتائج بہتر ہوں، بچوں کی انفرادی ضروریات کے مطابق تدریس کو مؤثر بنایا جاسکے اور اساتذہ کو مدد ملے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کو تعلیم میں انسانی کردار کا متبادل بنانے کے بجائے اس کا معاون ہونا چاہیے۔ عمر عبداللہ نے اساتذہ اور اسکولوں کے سربراہان کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تدریس کے نئے طریقوں سے واقفیت، کامیاب تجربات کا تبادلہ اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے مواقع تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کے مواقع صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رہنے چاہییں، بلکہ دیہی، دور دراز اور تعلیمی سہولتوں سے محروم علاقوں کے بچوں تک بھی یکساں طور پر پہنچنے چاہییں۔ ان کے مطابق، تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر بچے کو بہتر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ وزیر اعلیٰ نے ہندوستان اور دیگر ملکوں کے تعلیمی اداروں کے درمیان بامعنی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اشتراک سے نئے تجربات کو فروغ دینے، کامیاب تعلیمی نمونوں سے سیکھنے اور مجموعی طور پر تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اسکولوں کی بہترین قیادت کو اعزازات کے ذریعے سراہنے سے تعلیمی اداروں میں بہتر کارکردگی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس سے دوسرے اداروں کو بھی کامیاب تجربات سے سیکھنے اور انہیں اپنے حالات کے مطابق اپنانے کی ترغیب ملتی ہے۔